BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 October, 2004, 01:07 GMT 06:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قدیرسےانٹرویو کے لیے نہیں کہا‘
عبدالقدیر خان
پاکستان نےآئی اے ای اے کو اپنے سائنسدانوں تک براہ راست رسائی کی اجازت نہیں دی ہے۔
اقوام متحدہ کےجوہری ادارے آئی اے ای اے نے کہا ہے کہ اس نے پاکستان سے کسی’ مخصوص سائنسدان‘ تک رسائی کے لیے نہیں کہا ہے ۔

ادارے کے ترجمان نے کہا ہے کہ آئی اے ای اے نے پاکستانی سائسندان عبدالقدیر خان کا انٹرویو کرنے کے لیے حکومت پاکستان سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔

البتہ آئی اے ای اے کے ترجمان نے وضاحت کی کہ عالمی ادارے نے پاکستان سے ایک درخواست کی تھی کہ وہ ان سائنسدانوں تک رسائی مہیا کرئے جو جوہری توانائی کو پھیلانے میں ملوث رہے ہوں۔ اس درخواست میں کسی ’مخصوص سائنسدان‘ کا نام شامل نہیں تھا۔

ترجمان کے مطابق پاکستان نے آئی اے ای اے کو اپنے جوہری سائنسدانوں کے ساتھ براہ راست رابطہ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

پاکستان نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے ہیں جس کی وجہ سے وہ اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کی نگرانی سے باہر ہے۔

آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادی نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عالمی ادارے پاکستان کے ان سائنسدانوں کے سات بات کرنا چاہتا ہے جو ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں ملوث رہے ہوں۔

محمد البرادی کو البتہ یہ یقین نہیں تھا کہ کیا آئی اے ای اے نے پاکستان کے کسی’ مخصوص سائنسدان‘ کے انٹرویو کہا ہے یا نہیں۔

پاکستان کے ایٹمی بم کے خالق عبدالقدیر نےایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو جوہری ٹیکنالوجی کی معلومات منتقل کرنے کا الزام تسلیم کر لیا تھا جس کے بعد ان کو صدر جنرل پرویز مشرف نے معاف کر دیا تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد