’قدیرسےانٹرویو کے لیے نہیں کہا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کےجوہری ادارے آئی اے ای اے نے کہا ہے کہ اس نے پاکستان سے کسی’ مخصوص سائنسدان‘ تک رسائی کے لیے نہیں کہا ہے ۔ ادارے کے ترجمان نے کہا ہے کہ آئی اے ای اے نے پاکستانی سائسندان عبدالقدیر خان کا انٹرویو کرنے کے لیے حکومت پاکستان سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ البتہ آئی اے ای اے کے ترجمان نے وضاحت کی کہ عالمی ادارے نے پاکستان سے ایک درخواست کی تھی کہ وہ ان سائنسدانوں تک رسائی مہیا کرئے جو جوہری توانائی کو پھیلانے میں ملوث رہے ہوں۔ اس درخواست میں کسی ’مخصوص سائنسدان‘ کا نام شامل نہیں تھا۔ ترجمان کے مطابق پاکستان نے آئی اے ای اے کو اپنے جوہری سائنسدانوں کے ساتھ براہ راست رابطہ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ پاکستان نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے ہیں جس کی وجہ سے وہ اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کی نگرانی سے باہر ہے۔ آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادی نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عالمی ادارے پاکستان کے ان سائنسدانوں کے سات بات کرنا چاہتا ہے جو ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں ملوث رہے ہوں۔ محمد البرادی کو البتہ یہ یقین نہیں تھا کہ کیا آئی اے ای اے نے پاکستان کے کسی’ مخصوص سائنسدان‘ کے انٹرویو کہا ہے یا نہیں۔ پاکستان کے ایٹمی بم کے خالق عبدالقدیر نےایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو جوہری ٹیکنالوجی کی معلومات منتقل کرنے کا الزام تسلیم کر لیا تھا جس کے بعد ان کو صدر جنرل پرویز مشرف نے معاف کر دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||