BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 April, 2005, 07:33 GMT 12:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’این پی ٹی پر سائن نہیں کریں گے‘

نیوکلیئر سپلائرز گروپ
نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا وفد پاکستانی حکام سے مذاکرات کر رہا ہے۔
پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے بین الاقوامی برادری سے ہر ممکن تعاون کرے گا لیکن وہ ایک غیر جوہری ملک کی حیثیت سے این پی ٹی، جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

جوہری عدم پھیلاؤ اور جوہری برآمدات پر قابو پانے کے لئے بنائی گئی چوالیس ممالک پر مشتمل تنظیم نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے وفد سے ملاقات کے بعد پاکستان دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا ممبر بننے کے لئے این پی ٹی پر دستخط ایک اہم جزو ہے مگر پاکستان ایک جوہری ملک ہے اور اگر وہ این پی ٹی پر دستخط کرے گا تو وہ صرف بین الاقوامی برادری سے پاکستان کی جوہری حیثیت کو تسلیم کرنے کے بعد۔

دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی نے کہ مذاکرات نہائت مفید رہے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری طارق عثمان حیدر نے ان مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کی۔نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے وفد نے پاکستانی سیکریٹری خارجہ ریاض محمد خان سے بھی ملاقات کی۔

ترجمان نے کہا کہ ان مذاکرات میں پاکستان نے ان اقدامات کا ذکر کیا جو اس نے حساس مواد اور ٹیکنالوجی کی برآمد روکنے کے لیے کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے وفد نے پاکستان کی طرف سےجوہری مواد کے عدم پھیلاؤ کی کوششوں اور اس سلسلے میں کئے گئے اقدامات کو سراہا۔

سپلائرز گروپ کے وفد کی قیادت گروپ کے سربراہ ڈاکٹر رچرڈ ایکوال کر رہے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ نے مستقبل میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

سپلائرز گروپ کے وفد کی قیادت سویڈن کے ڈاکٹر اگوال کر رہے ہیں۔ یہ تنظیم جوہری پروگرام میں استعمال ہونے والے پرزہ جات اور ٹیکنالوجی کی برآمد کو روکنے کے لیے کام کرتی ہے تاکہ کوئی بھی ممبر ملک کسی دوسرے ملک کو جوہری طاقت بننے میں مدد نہ دے سکے۔

پاکستان کی پارلیمان نے گذشتہ برس جوہری برآمدات پر قابو پانے کا ایک قانون بھی پاس کیا تھا۔

پاکستانی حکام مسلسل ان اطلاعات کو غلط اور بے بنیاد قرار دیتے رہے ہیں کہ پاکستان اپنے جوہری پروگرام کے لئے ابھی بھی بین الاقوامی جوہری بلیک مارکیٹ سے خریداری کر رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کو کسی بھی بیرونی ذریعہ کی ضرورت نہیں ہے۔

پاکستان نے حال ہی میں اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کی درخواست پر سینٹریفیوجز معائنے کے لیے ادارے کو بھیجنے کی درخواست منظور کر لی ہے تاہم ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ پاکستان نے کیا یہ سینٹریفیوجز بھجوا دیئے ہیں یا نہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق نیوکلیئر سپلائرز گروپ پاکستان کی جوہری تنصیبات کا معائنہ نہیں کرے گا بلکہ وہ صرف حکام سے بات چیت کرئے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد