جوہری تنصیبات: حفاظت کی ہدایت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں وزارتِ داخلہ نے چاروں صوبوں اور اسلام آْباد انتظامیہ کو خط لکھ کر ملک بھر میں جوہری تنصیبات کی سلامتی اور حفاظت کے لیے ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت نے یہ ہدایت ان معلومات کی بنا پر بھیجی ہیں جن کے مطابق پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے مبینہ طور پر اسرائیلی اور بھارتی ماہرین کے تیار کردہ ایک منصوبے کا پتہ چلا ہے۔ وزارتِ داخلہ کی اطلاعات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بھارت اور اسرائیل کے ماہرین نے ایران اور پاکستان کی جوہری اہلیت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی خاطر پچیس افغان شہریوں کو تربیت دی ہے اور انہیں متعلقہ دونوں ممالک میں پھیل جانے کا کہا ہے۔ وفاقی وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں کے ’ہوم سیکریٹریز، اور اسلام آباد کے چیف کمشنر کو پانچ مارچ کو بھیجےگئے اس خط میں، جس کی نقل بی بی سی کے پاس ہے، مزید بتایا ہے کہ تربیت یافتہ افغانیوں کا ایک گروہ اس سلسلے میں صوبہ بلوچستان سے پاکستان میں داخل بھی ہوچکا ہے۔ لیکن جب اس خط کے بارے میں وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا اس خط کے بارے میں وہ لاعلم ہیں۔
وزارتِ داخلہ نے اس خط میں مزید لکھا ہے کہ افغانستان میں موجود بھارتی اور اسرائیلی ماہرین افغانیوں کے ایک اور گروپ کو بھی اس ضمن میں تیار کر رہے ہیں۔ حکومت کے خط کے مطابق حضرت علی اور حاجی ظاہر نامی دو افراد کو موزوں افغانی باشندوں کو تربیت کے لیے تلاش کا کام دیا گیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے اس خط میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پچیس جنوری کو بھارت نے جلال آباد میں جعلی پاکستانی کرنسی کے پیکٹ بھی حضرت علی، حاجی ظاہر اور فریدوں کو بھیجے ہیں تاکہ وہ قابل اعتماد ذرائع کی معرفت پشاور کے ایک بازار میں وہ کرنسی پھیلا سکیں۔ حکومت نے چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ ایسی صورتحال میں وہ نہ صرف اپنی حدود میں واقع جوہری اثاثوں کی سلامتی اور حفاظت کے لیے اقدامات اٹھائیں بلکہ ملک میں گھس آنے والے عناصروں پر بھی کڑی نظر رکھی جائے، تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ متعلقہ انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس ضمن میں کیے جانے والے اقدامات سے وزارت داخلہ کو باخبر رکھا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||