جوہری برآمدات پر کڑی نگاہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ اور پاکستان نے جوہری برآمدات اور ایسی برآمدات کے بارے میں جن کا دوہرا استعمال ہوتا ہے ضابطوں اور قوانین پر مکمل عمل درآمد کرنے اور مستقبل میں قریبی رابطہ رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکا کے انڈر سیکریٹری برائے تجارت کینیتھ آئی جسٹر نے پاکستان کی وزارت خارجہ کے وفد سے اس ضمن میں تفصیلی بات چیت کی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی نمائندے نے پاکستان کو رواں سال کے آخر میں امریکہ کے محکمہ تجارت کی دوہرے استعمال کی برآمدات کے لئے ضابطوں اور ان پر عمل درآمد کے متعلق سالانہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ بیان کے مطابق اس کانفرنس کے بعد دونوں ممالک دوہرے لائسنسنگ کے استعمال اور عمل درآمد کے معاملے پر دوطرفہ مزاکرات بھی کریں گے۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری برائے اقوام متحدہ اور اکنامک کو آر ڈی نیشن، طارق عثمان حیدر نے کی۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے زور دیا کہ جوہری ، خلائی اور دوہری ٹیکنالوجیز کے پرامن استعمال کے متعلق دونوں ممالک کے درمیان تعاون وسیع کیا جائے۔ ترجمان کے مطابق دونوں ممالک نے اتفاق ظاہر کیا کہ سلامتی اور صنعت دونوں لازم و ملزوم ہیں اور دونوں ممالک کو عالمی تجارت کے فروغ کے لئے پائدار اقدامات کرنے چاہئیں ۔ پاکستان کے دو روزہ دورے پر آیا ہوا امریکی وفد آج پیر کے روز بھی اہم شخصیات سے ملاقاتیں جاری رکھے گا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کے بیان کے مطابق امریکی وفد نے بقول ان کے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور ان سے دو طرفہ دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ واضع رہے کہ پاکستان سے جوہری اوزار اور معلومات ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو فراہم کرنے کے متعلق جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مبینہ اقراری بیان ، ان کی گرفتاری اور معافی کے معاملے کے بعد امریکی حکام کے اس دورے کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||