ایٹمی پلانٹ کے لئے چین کی مدد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور چین نے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت تین سو میگا واٹ جوہری بجلی پیدا کرنے کا یونٹ لگایا جائےگا۔ معاہدے پر منگل کے روز وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اورچین کی نیشنل نیوکلیئر کارپوریش کے چیئرمینوں نے دستخط کئے۔ اس موقع پر وزیر اعظم میر ظفراللہ جمالی بھی موجود تھے۔ یہ معاہدہ گوادر میں ہونے والے بم دھماکے کے صرف ایک دن بعد ہوا ہے جس میں تین چینی انجنیئر ہلاک اور نو زخمی ہوئے تھے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع میانوالی سے بتیس کلومیٹر کے فاصلے پر قائم چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ میں اس معاہدے کے مطابق ایک اور یونٹ قائم کیا جائے گا۔ سی ون کے نام سے ایک یونٹ پہلے ہی کام کر رہا ہے۔ یہ بھی چین کی مدد سے دسمبر سن انیس سؤ اکانوے میں قائم کیا گیا تھا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق نیا یونٹ سن دو ہزار دس تک مکمل ہونے کی توقع ہے جس پر چھ سو ملین ڈالر کی لاگت آئے گی۔ معاہدے کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سن انیس سو چھیاسی سے پاکستان اور چین پر امن مقاصد کے لئے جوہری تعاون کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ پاکستان میں پہلا جوہری بجلی گھر کراچی میں تیس سال پہلے قائم ہوا تھا جس کی حال ہی میں مرمت کے بعد پندرہ سال پلانٹ لائف کا اضافہ کردیا گیا تھا۔ واضع رہے کہ جوہری بجلی گھروں کے معائنے کی اجازت تو پاکستان نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن کو دے رکھی ہے لیکن جوہری ہتھیاروں، میزائل پروگرام اور تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ پاکستان نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستختط نہیں کئے۔ پاکستان نے پہلا جوہری تجربہ سن انیس اٹھانوے میں اس وقت کیا تھا جب سرحدی ملک بھارت نے بھی ایسا ہی تجربہ کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||