ایٹمی پھیلاؤ روکنے کےلئے نیا قانون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکومت نے جوہری، کیمیائی اور حیاتیاتی یعنی بایولاجیکل ٹیکنالوجیز ، مواد اور اوزاروں کی برآمدگی پر ضابطے کے متعلق قانون سازی کے ایک مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ بدھ کے روز وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کی صدارت میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس مسودہ قانون کی منظوری دی گئی جو جلد ہی بحث کے لئے پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔ کابینہ کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے متعلق جاری کردہ بیان میں دعوہ کیا گیا ہے کہ پاکستان جوہری ، کیمیائی اور حیاتیاتی اسلحہ اور میزائل جو ایسے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں ان کے پھیلاؤ کا سخت مخالف ہے اور اس بل کی منظوری ان کے اس عہد کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرار داد کے ذریعے حال ہی میں ایسے ہتھیاروں کے عدم پھلاؤ کے لئے دنیا کے تمام ممالک پر زور دیا تھا کہ اس ضمن میں قانون سازی کریں۔ واضع رہے کہ پاکستان سے جوہری مواد ، اوزار اور معلومات دیگر ممالک کو فراہم کرنے پر چند ماہ قبل حکومت سے عالمی اٹامک انرجی کمیشن نے وضاحت طلب کی تھی جس کے بعد پاکستان حکومت نے دعوہ کیا تھا کہ ان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ذاتی لالچ کی خاطر شمالی کوریا، لیبیا اور ایران کو جوہری معلومات ، مواد اور اوزار فراہم کئے ہیں اور حکومت اس میں ملوث نہیں۔ ڈاکٹر خان ان دنوں حکومت کی سخت حفاظتی تحویل میں ہیں، حکومت نے ان سے دوستوں ، ساتھیوں اور میڈیا سمیت کسی کے بھی ملنے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے جبکہ جوہری بم بنانے والی ان کی لیبارٹری کے چار ملازمین اب بھی حکومت کی تحویل میں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||