کہوٹہ ملازمین: حراست میں توسیع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکومت نے جوہری پروگرام کے ادارے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری (کے آر ایل) کے زیر تفتیش چار ملازمین کی حراست میں تین ماہ کی توسیح کی ہے۔ جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت حراست میں لیے گئے یہ ملازمین ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے حراست کی توسیع کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں دو سائنسدان ڈاکٹر فاروق اور ڈاکٹر نذیر جبکہ دو ریٹائرڈ فوجی افسران برگیڈیئر سجاول اور میجر اسلام الحق شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سولہ اپریل کو ان کی حراست کی مدت ختم ہو گئی تھی جس میں مزید تین ماہ کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ کہوٹہ لیبارٹری کے زیر حراست ملازمین کی رہائی کے لئے بنائی گئی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شفیق نے جو کہ برگیڈیئرسجاول کے بیٹے ہیں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کے ڈاکٹر فاروق کو گزشتہ سال تئیس نومبر کو جبکہ باقی زیر حراست تینوں ملازمین کو رواں سال سترہ جنوری کو حراست میں لیا تھا۔ ڈاکٹر شفیق کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان اور ڈاکٹر فاروق کے گھروالوں کی ملاقات سنیچر سترہ اپریل کو ہوئی تھی ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خفیہ ایجسنیوں کے اہلکار انہیں دھمکیاں دیتے رہے ہیں کہ وہ احتجاج نہ کریں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایجنسی کے اہلکار ان کو یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ جن زیر حراست ملازمین کے ورثاء نے احتجاج نہیں کیا ان کو چھوڑدیا گیا اور جو احتجاج کریں گے ان کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ میجر اسلام کی بیگم نیلوفر اسلام نے بتایا کہ ان کی شوہرسے گزشتہ جمعہ کو ملاقات ہوئی تھی ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے شوہر کے دانتوں میں تکلیف تھی اور انہیں ڈاکٹر کی سہولت نہیں دی جا رہی۔ ڈاکٹر نذیر کے بیٹے عثمان نذیر نے سولہ اپریل کو والد سے ملاقات کی تصدیق تو کی البتہ تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||