BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 September, 2004, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری مواد کی برآمد کا بل منظور

قومی اسمبلی
توقع ہے کہ اس بل کو بدھ کے روز بلائے گئے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا
پاکستان میں حکومت نے منگل کے روز جوہری، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں سے متعلق اشیاء، ٹیکنالوجی، مواد اور سازو سامان کی برآمد کے کنٹرول کا آئینی بل قومی اسمبلی سے منظور کرالیا۔

حزب اختلاف نے عجلت میں بل منظور کرائے جانے کے خلاف حکومت پر کڑی نکتہ چینی کی اور بعض ترامیم بھی پیش کیں جو مسترد کردی گئیں۔

حکومت نے یہ بل اسمبلی سے منگل کی شام کو خصوصی سیشن بلا کر منظور کرایا اور توقع ہے کہ اس بل کو بدھ کے روز بلائے گئے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی سے اس بل کو متعلقہ کمیٹی کی رپورٹ آئے بغیر منظور کرالیا گیا۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ پاکستان جوہری ، کیمیائی اور حیاتیاتی اسلحہ اور میزائل جو ایسے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں، ان کے پھیلاؤ کا سخت مخالف ہے اور اس بل کی منظوری اس عہد کی عکاسی کرتی ہے۔

اس قانون کے تحت جوہری، حیاتیاتی اور کیمیائی اسلحہ سے متعلق مواد اور سازوسامان کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے گی۔

اس قانون کے تحت حکومت کے مجاز افسر کی درخواست پر مقدمے کی سماعت سیشن جج کرے گا۔جرم کے مرتکب شخص کو چودہ سال قید یا پچاس لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔ سزا یافتہ شخص کی تمام جائیداد جہاں کہیں بھی ہو وہ بحق سرکار ضبط ہوجائے گی۔ سزا پانے والے شخص کو فیصلے کے تیس دن کے اندر عدالت عالیہ میں اپیل دائر کرنی ہوگی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرار داد کے ذریعے حال ہی میں ایسے ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے لئے دنیا کے تمام ممالک پر زور دیا تھا کہ اس ضمن میں قانون سازی کریں۔

اب جب اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کا اجلاس شروع ہورہا ہے اور صدر جنرل پرویز مشرف خطاب بھی کریں گے۔ اس لیے حکومت کی کوشش تھی کہ صدر کی نیویارک روانگی تک یہ قانون منظور ہو جائے۔

حکومت نے اس بل کو قومی اسمبلی سے پیر کی رات گئے منظور کرانے کی کوشش کی تھی لیکن کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے منظور نہیں ہوسکا تھا۔

واضع رہے کہ چند ماہ قبل عالمی اٹامک انرجی کمیشن نے پاکستان سے جوہری مواد اور معلومات دیگر ممالک کو فراہم کرنے پر وضاحت طلب کی تھی۔

جس کے بعد پاکستان حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ذاتی لالچ کی خاطر دیگر ملکوں کو جوہری معلومات، سازوسامان اور دیگر مواد فراہم کیا ہے اور اس میں حکومت کسی طور بھی اس ملوث نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد