اپوزیشن نے سینٹ کا اجلاس بلا لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی سمیت چھ نکاتی ایجنڈے پر بحث کے لیے پارلیمان کے ایوان بالا سینٹ کا اجلاس بلانے کے لیے سنیچر کے روز درخواست جمع کرادی ہے۔ حکومت کی جانب سے بلائے گئے اجلاس کے غیرمعینہ مدت تک ملتوی کیے جانے کے محض ایک دن بعد ہی حزب اختلاف نے دوبارہ اجلاس بلانے کی درخواست دی ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما رضا ربانی کا کہنا ہے کہ حکومتی اجلاس میں ان کے پیش کردہ مسائل پر بحث نہیں کرائی گئی اس لیے انہیں اجلاس ’رکیوزیشن‘ کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اجلاس بلانے کے لیے سینٹ سیکریٹریٹ میں دی گئی درخواست پر حزب مخالف کی مختلف جماعتوں کے انتالیس اراکین نے دستخط کیے ہیں۔ ان کے مطابق چھ نکاتی ایجنڈے میں بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی اور حکومتی مشینری کے استعمال، صدر جنرل پرویز مشرف کے دورہ امریکہ، تیل کی قیمتوں میں اضافے، مرکز اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کے فارمولے ’این ایف سی ایوارڈ‘ میں تاخیر، امن و امان کی صورتحال اور بے روزگاری کے معاملات شامل ہیں۔ واضح رہے کہ قانون کے مطابق جب حزب اختلاف اجلاس بلانے کی درخواست دے تو حکومت اس کی وصولی کے چودہ دن تک اجلاس بلانے کی پابند ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||