BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 September, 2005, 13:01 GMT 18:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خط دکھائیں؟ سینِٹ کمیٹی کا سوال

News image
انگلینڈ کے خلاف کراچی میں ٹیسٹ میچ کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔
سینٹ کی اسپورٹس سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان سے اس خط کی کاپی طلب کرلی ہے جو پاکستان کرکٹ بورڈ نے مارچ میں انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو لکھا تھا۔

اس خط کے بارے میں شہریارخان کا دعوی ہے کہ اس میں کراچی کو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے ممکنہ مرکز کے طور پر تجویز کیاگیا تھا۔

شہریارخان جمعرات کو سینٹ کی اسپورٹس سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور کراچی میں ٹیسٹ میچ نہ ہونے کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا نقطۂ نظر پیش کیا۔

سینٹ کی اسپورٹس سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن سینیٹر انوربیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ شہریارخان سے اس خط کی کاپی اس لیے طلب کی گئی ہے کیونکہ شہریارخان کے اس دعوے کے برعکس انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی ویب سائٹ پر اس کے ڈائریکٹر جان کار کا یہ بیان موجود ہے کہ ہم نے اسی ٹورپروگرام کو منظور کیا جو پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھیجا تھا اور بقول جان کار اس پروگرام میں کراچی کو ٹیسٹ میچ کے لیے تجویز نہیں کیا گیا تھا۔

شہریارخان نے کمیٹی کے سامنے یہ موقف اختیار کیا کہ کراچی میں ٹیسٹ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ برطانوی حکومت کا ہے جبکہ ہم نے بھی اپنی حکومت کو تمام صورتحال سے آگاہ کئے رکھا اور اسے بتایا کہ اگر ہم ٹیسٹ میچ پر بضد رہتے تو یہ دورہ ہی منسوخ ہوجاتا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ انگلینڈ کے خلاف کراچی میں ٹیسٹ میچ نہ ہونے کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلی حکام کے متضاد بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔

ڈائریکٹر سلیم الطاف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ کہہ کر بحث شروع کی تھی کہ کراچی کو سرے سے ٹیسٹ میچ کے لیے تجویز ہی نہیں کیا گیا تھا اگر یہ بات تھی تو پھر کڑ ے پہرے میں انگلینڈ کے سکیورٹی وفد کو کراچی کیوں لایا گیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے یہ بحث یہ کہہ کر ختم کی تھی کہ کراچی کو ٹیسٹ میچ کے لیے تجویز کیاگیا تھا لیکن اب سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی ویب سائٹ پر موجود اس کے ایک اعلی افسر کے بیان کا حوالہ دے کر شہریارخان کے دعوے کی نفی کردی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد