BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 August, 2005, 16:47 GMT 21:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مظفر آباد سٹیڈیم: کوئی دعوت نہیں
مظفر آباد سٹیڈیم
بھارت کومظفرآباد سٹیڈیم میں کھیلنے کی دعوت دینا قبل از وقت ہے
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین شہریار خان نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کو متنازعہ علاقے کشمیر میں قائم کرکٹ سٹیڈیم میں ایک روزہ میچ کھیلنے کی دعوت نہیں دےگا۔

گزشتہ ہفتے کشمیر کے کھیلوں کے وزیر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک روزہ میچ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد میں نئے تعمیر شدہ سٹیڈیم میں منعقد کروانے کی درخواست کی تھی۔

شہریار خان کا اس بارے میں کہنا ہے کہ انہیں تاحال پاکستان کے زیر انتظام کشمیری حکومت کی جانب سے اس سلسلےمیں کوئی تحریری درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بورڈ بھی مظفرآباد میں کرکٹ کے فروغ کا خواہش مند ہے مگر بھارت کو مظفرآباد سٹیڈیم میں کھیلنے کی دعوت دینا قبل از وقت ہے۔

بھارت کی کرکٹ ٹیم نے چودہ سال کے تعطل کے بعد گزشتہ سال پاکستان میں ایک ٹیسٹ سیریزکھیلی تھی۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ سیریز اگلے سال فروری میں شروع ہورہی ہے اور یہ سیریز پاکستان میں کھیلی جائے گی اور اس دوران دونوں
ممالک کے درمیان تین ٹیسٹ میچ اور پانچ ون ڈے میچز کھیلیں جائیں گے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں لگ بھگ پندرہ کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا بین الااقوامی معیار کا یہ کرکٹ سٹیڈیم تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ سٹیڈیم اس سال دسمبر تک مکمل ہو جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سٹیڈیم میں بارہ ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور اس میں بین الااقوامی کرکٹ کھیلنے کے لیے تمام سہولیات میسر ہیں۔

کھیلوں اور ثقافت کے وزیر دیوان علی خان چغتائی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے کرکٹ بورڈ کے حکام نے بھی اس سٹیڈیم کا معائنہ کیا اور اسے بین الااقوامی کرکٹ کھیلنے کے لیے موزوں قرار دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ بین الااقوامی کرکٹ میچوں کے انعقاد سے کشمیر کے اس علاقے میں کرکٹ کو فروغ حاصل ہوگا اور اس کے علاوہ یہاں کے نوجوانوں کو کرکٹ سیکھنے اور سمجھنے میں مدد ملے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد