BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 August, 2005, 15:51 GMT 20:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مظفر آباد سٹیڈیم: میزبانی کی پیشکش

مظفر آباد سٹیڈیم
وزیر دیوان علی خان سٹیڈیم میں ایک روزہ بین الاقوامی میچ کی میزبانی کی امید ظاہر کی
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کا کہنا ہے کہ انھوں نے پاکستانی حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ آئندہ سال ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی کرکٹ سیریز کا ایک ون ڈے میچ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد میں بھی کرائے۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ سیریز اگلے سال فروری میں شروع ہورہی ہے اور یہ سیریز پاکستان میں کھیلی جائے گی اور اس دوران دونوں مملک کے درمیان تین ٹیسٹ میچ اور پانچ ون ڈے میچز کھیلیں جائیں گے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت میں کھیلوں اور ثقافت کے وزیر دیوان علی خان چغتائی نے کہا کہ انھوں نے پاکستان کی کرکٹ بورڈ سے درخواست کی ہے کہ وہ آئندہ سال ہونے والے پاک بھارت کرکٹ سریز کے دوران ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک ون ڈے کرکٹ میچ مظفرآباد میں منعقد کرانے کے لئے اقدامات کریں ۔

ان کا کہنا ہے کہ’ ہم کرکٹ بورڈ کے فیصلے کے منتظر ہیں اور ہمیں ان سے مثبت رد عمل کی توقع ہے اور ہمیں یعقین ہے کہ ہمارے حق میں مثبت فیصلہ کیا جائے گا’۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ہم ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک کرکٹ میچ مظفرآباد میں کرانے میں کامیاب ہوں گے‘۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دالحکومت مظفرآباد میں لگ بھگ پندرہ کڑوڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا بین الااقوامی معیار کا یہ کرکٹ سڈیڈیم تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ سٹیڈیم اس سال دسمبر تک مکمل ہو جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سٹیڈیم میں بارہ ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور اس میں بین الااقوامی کرکٹ کھیلنے کے لئے تمام سہولیات میسر ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے کرکٹ بورڈ کے حکام نے بھی اس کا معائنہ کیا اور اس کو بین الااقوامی کرکٹ کھیلنے کے لئے موزوں قرار دیا۔

کھیلوں اور ثقافت کے وزیر دیوان علی خان چغتائی نے کہا چونکہ ہمارے ہاں سہولت موجود ہے اس لئے اب کوئی ایسی وجہ نہیں ہے کہ کشیمر کے اس علاقے میں بین الااقوامی کرکٹ میچز کا انعقاد نہ کیا جائے ۔

کھیلوں کے وزیر نے کہا کہ کشمیر کا یہ علاقہ پر امن علاقہ ہے اور یہ کہ لوگ بھی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچوں میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں اور اس علاقے میں دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ کو شوق سے دیکھا جاتا ہے۔

لہذا ان کا کہنا ہے کہ کشمیر کے اس علاقے میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ کے انعقاد پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔

اگرچہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت پاکستان کرکٹ بورڈ سے مثبت رد عمل کی توقع کر رہی ہے لیکن اب سوال یہ ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم اور خود دلی حکومت اس تجویز کو کس زاویے سے دیکھی گی۔

محکہ سپورٹس کے حکام کا کہنا ہے کہ بین الااقوامی کرکٹ میچوں کے انعقاد سے کشمیر کے اس علاقے میں کرکٹ کو فروغ حاصل ہوگا اور اس کے علاوہ یہاں کے نو جوانوں کو کرکٹ سیکھنے اور سمجھنے میں مدد ملے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ ساتھ ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ بھی بین الااقوامی سطح پر بہتر انداز میں متعارف ہوگا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ میچ مظفرآباد میں منعقد ہوا تو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جاری امن کے عمل میں بہت ددر رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سے کشمیر کے اس علاقے کی جس کو امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن دنیا کا خطرناک ترین علاقہ قراردے چکے ہیں مثبت تصویر اجاگر ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد