’انڈیا جو مانگے گا عطا کیا جائے گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اس سیریز میں کہیں کوئی کمی ضرور ہے۔ یہاں سب کچھ اچھا ہی اچھا ہے۔ میزبانی ایسی کہ بیان مشکل۔ میدان میں آنے والے کرکٹ کے شائقین ایسے کے یقین مشکل۔ ہندوستان اور پاکستان کے جھنڈے ایک ساتھ سلے ہوئے۔ میدان میں ’انڈیا انڈیا‘ کا شور پورے پیشاور میں ہندوستانی ترنگے!۔ میدان میں کھلاڑیوں کے درمیان کشیدگی کیوں نہیں، اور ہار جیت کھیل کا حصہ کیوں ہے۔ ایسا پہلے تو کبھی نہیں ہوا۔ دونوں ٹیمیں پہلے تو ہمیشہ صرف جیتنے کےلئے میدان میں اترتی تھیں۔ کیا اس سیریز کی تقابلی شدت سیاست کی نظر ہو رہی ہے۔ صرف پیشاور کے میچ میں شعیب اختر نے کچھ جارحانا رخ دکھایا۔
کیا واقعی مقامی لوگوں کو عرفان پٹھان زندہ باد کے نعرے لگانے چاہیں۔ کیا ہوم گراؤنڈ کا تصور اب ماضی کے قصےکہانیوں تک محدود رہے گا؟ یا اب بھی وینکٹیش پرساد اور عامر سہیل جیسی تکرار دیکھنے کو ملے گی۔ ان سوالات کا جواب میرے پاس نہیں۔ لیکن پیشاور کے پریس باکس میں میرے ساتھ دو مقامی صحافی بیٹھے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ’یہ سریرز مک مکا ہے‘۔ یہ پنجابی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ نتائج پہلے سے طے ہیں۔ ان لوگوں نے ایک اور دلچسپ بات بھی کہی کہ وہ یہ مانتے ہیں کہ’ ہندوستانی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی لاہور کا ایک میچ دیکھنے آئیں گے، اور وہ میچ شاید ہندوستان جیتےگا۔ فیل گڈ فیکٹر یعنی تعلقات میں گرمجوشی لانے کے لئے، بقول انکے، یہ ضروری ہے۔کرکٹ کی خاطر ہم تو بس یہی دعا کرتے ہیں کہ وہ جو سوچ رہے ہیں، وہ صحیح نہ ہو‘۔ سنا ہے کل ایک اور دلچسپ بات ہوئی۔ سورو گانگولی نے نیازی سٹیڈیم کے میدان میں سے کہا کہ وکٹوں کے سامنے والی باؤنڈری لمبی کریں کیونکہ ان کے خیال میں سیدھی باؤنڈری کچھ چھوٹی تھی۔ گراؤنڈز مین نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ باؤنڈری بڑھانے سے کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا کیونکہ اشتہاروں کی ہورڈنگ بہت قریب ہو جائیں گی۔ اس پر ایک صاحب نے کہا کہ بھائی کل تک انتظار کریں ہوسکتا ہے کہ یہ بھی ہو جائے۔ آجکل کولن پاؤل صاحب آئے ہوئے بھارت جو بھی مانگے عطا کیا جاۓ گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||