شیر گھاس نہیں کھاتے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اخبار میں پڑھا کہ لاہور میں قیام کے دوران ہندوستانی ٹیم کو کھانا پیش کرنے سے قبل کسی کو چکھایا جاتا تھا تاکہ کھلاڑیوں کو کوئی زہر دیکر مار نہ دے۔ اسلام آباد میں دونوں ٹیمیں میریئٹ ہوٹل میں ٹھہری ہیں۔ یہاں ماحول کافی نارمل اور سکیورٹی تھوڑی کم ہے تو سوچا کہ معلوم کیا جائے کرکٹ اور کرکٹرز کی خاطر یہاں کس کو بلی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ باقی چیزوں کی طرح تاریخ پر بھی میری کوئی گہری نظر تو نہیں لیکن بچپن میں یہی پڑھا تھا کہ یہ احتیاط شاہی گھرانوں میں برتی جاتی تھی۔
لیکن میریئٹ میں بات اس سے بھی کچھ سنگین نکلی۔ یہاں انتظامیہ نے ہندوستانی کھلاڑیوں کے لئے ایک خصوصی دال کاؤنٹر قائم کیا ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ زیادہ تر ہندوستانی دال اور سبزی پسند کرتے ہیں۔ پاکستان میں اب تک میرا تجربہ یہ ہے کہ اگر آپ ہوٹل میں دال یا سبزی مانگیں تو ویٹر آپکو عجیب سی نگاہ سے دیکھتا ہے، کیونکہ اس کے خیال میں کوئی سرپھرا ہی روغن جوش چھوڑ کر آلو پالک کھانا چاہے گا۔ دال!! میرے خیال میں تو ہندوستانی کھلاڑیوں کو میریئٹ ہوٹل پر ہتک عزت کا دعوی کردینا چاہیے۔
ہوٹل سے یہ بھی پتہ چلا کہ سچن تیندولکر نے دو دن میں چار فلمیں دیکھی ہیں یا کم سے کم چار انگریزی فلموں کی ڈی وی ڈی ضرور منگائی ہیں۔ لیکن ایسا نہیں کہ وہ سارا وقت فلمیں دیکھ کر گزار رہے ہیں۔ انہوں نے ہوٹل سے دو گولف کے کلب منگائے ہیں اور اپنے کمرے کے باہر کاریڈور میں گولف کی مشق کرتے ہیں۔ شاید یہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔ ادھر پاکستانی کھلاڑیوں کا مذہب کی جانب رجحان ماشاءاللہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ کل میں پنڈی سٹیڈیم پہنچا تو دیکھا کہ تمام کھلاڑی وضو کر رہے ہیں اور پھر انہوں نے میدان کے بیچوں بیچ با جماعت نماز ادا کی۔ میرے خیال میں تو نماز کی اتنی پابندی قابل ستائش ہے۔ لیکن آپ صحافیوں کو نہیں جانتے، وہ ہر کام میں چاہے کتنا ہی نیک کیوں نے ہو، کوئی نہ کوئی مقصد ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں نے کئی صحافیوں کو کہتے سنا کہ میدان میں باجماعت نماز در اصل تصویر بنوانے کا بہانہ ہے ۔ میں نے پوچھا کہ انہیں ایسا کیوں لگا تو جواب تھا کہ غیر ملکی دوروں پر:
پہلے ایک روزہ میچ سے قبل ہم نے کراچی میں ایک سٹے باز سے بات کی تھی جس کا کہنا تھا کہ وہ میچ ہندوستان جیتے گا۔ لاہور کے وارم اپ میچ میں ہندوستان کی کراری شکست کے بعد یہ بات ذرا عجیب سی لگی تھی، لیکن سچ ثابت ہوئی۔ (غالباً تکا ہی رہا ہوگا کیونکہ کرکٹ میں تو اب میچ فکسنگ پر باقاعدہ پابندی ہے۔) اس مرتبہ سٹہ بازار میں پاکستان فیورٹ ہے، دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتاہے۔ جاتے جاتے ایک بات اور بتادوں۔ کل جب پنڈی سٹیڈیم میں پریکٹس سیشن دیکھنے کے لئے داخل ہو رہے تھے تو رائٹرز کے نامہ نگار کو کہتے سنا کہ پاکستانی فوج یا کم سے کم وہ فوجی جو کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں تعینات تھے، بہت مہذب اور نرم گو تھے۔ یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ پھر پاکستان میں فوج زیادہ مقبول کیوں نہیں؟ کیا پاکستانی گھر کی مرغی کو دال برابر سمجھتے ہیں؟ یا گھر کی دال کو مرغی کے برابر سمجھتے ہیں اور اسی لئے ہندوستانی کھلاڑیوں کے لئے دال کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||