سنا ہے مشرف کو سیاست نہیں آتی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سُنا تھا کہ صدر مشرف کو سیاست نہیں آتی۔ یا آتی ہےتو بہت کم۔ مجھے تو پہلے سے ہی شبہ تھا لیکن پتہ چلا کہ کم سے کم ایک ہندوستانی کھلاڑی کا بھی یہی خیال ہے۔ کل دونوں ٹیموں کوجنرل صاحب نے شام کی چائے پر بلایاتھا۔ چِکن تکہ، مٹن تکہ، سینڈوچ، چائے، کافی، رس گلےاور شاید اور بھی بہت کچھ رہا ہوگا۔ دس منٹ جنرل صاحب نے تقریر کی اور کہا کہ دونوں ملکوں کے پاس عام تباہی کے ہتھیار موجود ہیں۔۔۔ شعیب اختر اور سچن تیندولکر۔ اور یہ کہ کرکٹ کا آغاز صحیح سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ کھلاڑی کرکٹ کے بارے میں صدر کی معلومات سے بہت متاثر لوٹے۔
کپتان؟ لیکن کپتان تو گانگولی ہی ہے! جو بھی ہے، مجھے پسند ہے!! خدا کرے کے صدر صاحب کی کرکٹ کی جانکاری اس سے ذرا زیادہ ہو کیونکہ اب ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ انہیں سیاست کرکٹ سے کم ہی آتی ہے۔ کل کچھ بھرم اور بھی ٹوٹے۔ چار سال پہلے جب پاکستان آیا تھا تو اس تاثر کے ساتھ لوٹاتھا کہ یہاں جناح اور گاندھی دونوں کی برابر عزت ہے، دونوں کی برابر قدر ہوتی ہے۔ یہ سفر بس سے کیا تھا اور واہگہ بارڈر پر کسٹم کے ایک اہلکار کو یہ کہتے سنا کہ ہمارے لئے تو جناح اور گاندھی دونوں برابر ہیں۔ مُڑ کر دیکھا تو بات رشوت کی ہو رہی تھی، خاتون مسافر یہ کہ کر رشوت دینے سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اس کے پاس پاکستانی کرنسی نہیں، اور کسٹم افسر اسے یقین دلا رہا تھاکہ نوٹ چاہے جناح کی تصویر والا ہو یا گاندھی کی، وہ دودنوں کا برابر احترام کرے گا۔ سن کر اچھا لگا۔ کم سے کم کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو تقسیم کی تنگ فصیلوں سے بالاتر ہوکر سوچ سکتے ہیں۔ لیکن کل پشاور کے راستے میں جب ٹیکسلا رُکے تو معلوم ہوا کہ اب کرنسی کا وزن بدل گیا ہے۔ پاکستانی شہریوں کے لئے میوزیم میں داخلہ دس روپے میں تھا اور ہندوستانیوں کے لئے دو سو روپے میں۔ پوچھا کہ بھائی تمہیں کیسے پتہ چلا کہ ہم ہندوستانی ہیں؟ جواب ملا کہ میں دیکھ کربتا سکتاہوں! یہ سن کر تو اچھا لگا کہ ہم بھی کسی کے لئے ’فارنر‘ ہیں لیکن نام نہاد ’فارنر‘ ہونے کی اس سے بھاری قیمت میں نے کبھی نہیں چکائی۔ یہاں کرکٹ کے میدان میں بھی اب ٹھوڑی گرمی آرہی ہے۔ دوستانہ سیریز میں اب نفسیاتی حربے استعمال ہونے لگے ہیں۔ پنڈی کے میچ کے بعد گنگولی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر کے ایکشن سے مطمئن ہیں، تو گانگولی نےکہا کہ ٹی وی پر شعیب کی بالنگ دیکھنے کے بعد اس کا جواب سب کو معلوم ہونا چاہیے۔ اس سے ایک روز قبل پریس کانفرنس سے راہول دراوڈ نے خطاب کیا تھا اور انہوں نے بالکل واضح الفاظ میں کہاتھا کہ آشیش نہرا کے پیر میں سوجن ہے اور وہ پنڈی کا میچ نہیں کھیل سکیں گے۔ نہرا نہ صرف کھیلے بلکہ تین بہت اہم وکٹیں بھی حاصل کیں۔ ایک اخبارنے آج ہندوستانی ٹیم پر پوری صحافتی برادری کو گمراہ کرنے کا الزام لگتےہوئے لکھا ہے کہ صحافی کا کام دنیا کو صحیح معلومات فراہم کرناہوتا ہے، اور ہندوستانی ٹیم نے ہمیں نہرا کے معاملے میں غلط خبر دیکر ایسا کرنے سے روکا ہے۔ اخبار کا خیال ہے کہ نہرا کے فٹ نہ ہونے کی خبر ایک نفسیاتی چال تھی۔ لیکن میرے خیال میں جنگ محبت اور کرکٹ میں سب چلتا ہے۔ آپ نے ہماری ریڈیو نشریات میں سنا ہوگا کہ پہلا میچ ہندوستان جیتے گا، سو جیت گیا، پھر میں نے پنڈی کے میچ سے پہلے لکھا تھا کہ دوسرا میچ پاکستان جیتے گا، وہ بھی ہو گیا، اب سن یہ رہے ہیں کہ تیسرا میچ بھی پاکستان کے حق میں جائے گا۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور بھی ہے جو غیب کا حال جانتا ہے؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||