’شبیر کا کیرئر، دورہ انگلینڈ سےاہم ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے اس تاثر کو غلط قراردیا ہے کہ پی سی بی فاسٹ بولر شبیراحمد کے بولنگ ایکشن کی درستگی کے معاملے میں سست روی کا شکار ہے۔ شبیراحمد کے بولنگ ایکشن میں خرابی کے بارے میں امپائرز کی تیسری رپورٹ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ اسے درست کرنے میں مصروف ہے لیکن عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلی حکام کے متضاد بیانات اور پہلے عاقب جاوید اور اب باب وولمر کی خدمات حاصل کیے جانے کے سبب شبیراحمد کے انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز میں کھیلنے کے امکانات معدوم ہوچلے ہیں۔ پی سی بی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ اس بارے میں کوئی بھی غلط قدم شبیراحمد کے کیرئر کو متاثر کرسکتا ہے لہذا عجلت پسندی کے بجائے سوچ سمجھ کر شبیراحمد کے بولنگ ایکشن کی درستگی کا کام جاری ہے۔ شہریارخان کے مطابق باب وولمر لیبارٹری کے بجائے میچ میں شبیراحمد کے بولنگ ایکشن پر مکمل اطمینان چاہتے ہیں اسی لیے شبیراحمد کو اے ٹیم کے سلسلے میں ہونے والے ٹرائلز میچ میں کھلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں ان کی بولنگ کی ویڈیو بنائی جائے گی اور باب وولمر کے اطمینان کے بعد انہیں آسٹریلیا یا جہاں بھی شبیراحمد جانا چاہیں بھیجا جائے گا۔ شہریارخان نے کہا کہ شبیراحمد کو ایک بار پھر بائیومیکینکل ماہر پال ہارین سے رجوع کرنا پڑے گا جن کی رپورٹ کے مطابق شبیراحمد کے بازو کا خم پندرہ ڈگری کی مقررہ حد سے بہت زیادہ ہے۔ شہریارخان کہتے ہیں کہ اگر شبیراحمد کے بارے میں پال ہارین نے گرین سگنل دے دیا تب انہیں انگلینڈ کے خلاف کھلانے کا رسک لیا جاسکتا ہے دوسری صورت میں ان کے کیرئرکو داؤ پر لگانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق اور خود شبیراحمد اس صورتحال سے بہت پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے طے پاجائے اور ان کا کیرئر کسی خطرے کے بغیر جاری رہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||