شبیر کا ایکشن بدستور مشکوک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فاسٹ بولر شبیراحمد کے بولنگ ایکشن سے متعلق انگریز بائیومکینیکل ماہر پال ہیرون کی رپورٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کو موصول ہوگئی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شبیراحمد کے بولنگ ایکشن میں نقص ہے اور وہ بولرز کے لئے آئی سی سی کی مقرر کردہ پندرہ ڈگری کی حد سے تجاوز کرتا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز سلیم الطاف کے مطابق اس رپورٹ کے ملنے کے بعد ضروری ہوا تو کسی دوسرے ماہر سے بھی شبیراحمد کے بولنگ ایکشن کے بارے میں رجوع کیا جائے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ مشکوک بولنگ ایکشن کی درستگی سے متعلق جائزہ گروپ سے بھی رابطہ کیا جائے تاہم ان کا کہنا ہے کہ شبیراحمد کے کیریئر کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ شبیراحمد کے بولنگ ایکشن کا حال ہی میں برطانوی بائیومکینیکل ماہر پال ہیرون نے مختلف ٹیسٹ کے ذریعے جائزہ لیا تھا اور ان کی مرتب کردہ رپورٹ شبیراحمد کے بولنگ ایکشن میں موجود نقص ظاہر کرتی ہے۔ 29 سالہ شبیراحمد کا کیریئر ابتدا ہی سے بولنگ ایکشن پر اعتراضات کا شکار رہا ہے۔1999ء میں اپنے پہلے ہی ون ڈے انٹرنیشنل میں ان کے بولنگ ایکشن کے ’ تھرو‘ ہونے کی رپورٹ ہوگئی تھی۔ نیوزی لینڈ کے دورے میں وہ دوسری مرتبہ اس کی زد میں آئے اور پھر ویسٹ انڈیز کے حالیہ دورے کے پہلے ٹیسٹ میں تیسری مرتبہ ان کے بولنگ ایکشن پر اعتراض کیا گیا۔ تاہم اس مرتبہ اس کا ذمہ دار ٹی وی کمنٹیٹرز کو قراردیا جاتا ہے جنہوں نے میچ کے احوال سے زیادہ شبیراحمد کے بولنگ ایکشن کا واویلا مچایا جبکہ کئی دوسرے بولرز بھی اس وقت انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے ہیں جن کے بولنگ ایکشن واضح طور پر مشکوک معلوم ہوتے ہیں۔ شبیراحمد9 ٹیسٹ میچوں میں46 اور32 ون ڈے میں33 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق مشکوک بولنگ ایکشن سے متعلق قانون سے خوش نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کا سب سے زیادہ نقصان پاکستانی ٹیم کو ہوا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||