پاکستانی بولر، بھارت میں تربیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے چار نوجوان فاسٹ بولرمشہور آسٹریلین فاسٹ بولر ڈینس للی سے تربیت کے لیے بھارت روانہ ہو گئے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے چار فاسٹ بولروں محمد ارشاد، محمد آصف، محمد خلیل اور ریاض آفریدی کو بھارت کے شہر چنائی میں قائم ایم آر ایف اکیڈمی میں تربیت کے لیے بھیجا ہے۔ ان چاروں فاسٹ بولروں کو انڈر نائنٹین اور پاکستان اے میں اچھی کارکردگی کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے۔ یہ کھلاڑی بارہ روز تک ایم آر ایف اکیڈمی میں تربیت حاصل کر کے سات جولائی کو واپس آ جائیں گے۔ پاکستان اے کی جانب سے سری لنکا اور کینیا کے خلاف پینتیس وکٹیں لینے والے محمد آصف کا کہنا ہے کہ ان کی کرکٹ اکیڈمی میں کوچنگ ہو رہی جہاں عاقب جاوید، وقار یونس اور وسیم اکرم ان کو تربیت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ بورڈ نے ان کو انڈیا بھیجنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ بہتر ہی ہو گا۔ ڈینس للی سے تربیت لینے کے لیےجانے والوں میں سے بعض نے تو اس عظیم فاسٹ بولر کا نام بھی نہیں سن رکھا ہے۔ محمد ارشاد نے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ محمد سمیع اور شعیب اختر جتنی تیز گیندیں کرنے کے قابل ہیں، ڈینس للی کو نہ کبھی دیکھا ہے نہ ان کے بارے میں سنا ہے۔’میں نے تو کبھی ڈینس للی کی تصویر بھی نہیں دیکھی ہے یہ میری ان سے پہلی ملاقات ہو گی۔‘ محمد ارشاد نے کہا کہ ان کو پتہ چل چکا ہے کہ ان کی خامیاں کیا ہیں اور ان کو امید ہے کہ وہ ڈینس للی سے کچھ سیکھنے میں کامیاب رہیں گے۔ ریاض آفریدی کہتے ہیں کہ انہوں نے ڈینس للی کا نام تو سن رکھا ہےاور ان کی ویڈیو بھی دیکھی ہے لیکن یہ پہلا موقع ہو گا جب وہ ڈینس للی سے ملیں گے۔ ریاض آفریدی کےمطابق پاکستان کے پاس ڈینس للی سے بڑے بولر ہیں۔ ’ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ گورے ہمیں کیا سکھاتے ہیں‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||