BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 March, 2004, 07:17 GMT 12:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان کو بولنگ کوچ چاہیئے‘

News image
عمران خان
پاکستان کے سابق کپتان عمران خان نے لاہور میں کھیلے گئے چوتھے ون ڈے میچ پر، جو انڈیا نے چوالیسویں اوور میں پانچ وکٹوں سے جیت کر سیریز بھی برابر کر دی، تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میچ کے دوران ایک وقت ایسا بھی محسوس ہوتا تھا کہ پاکستان یہ میچ باآسانی جیت جائے گا لیکن میچ میں جو بات بار بار دیکھنے میں آئی وہ یہ ہے کہ پاکستانی بولروں میں ٹیلنٹ ہونے کے باوجود پروفیشنلزم کا فقدان ہے۔

عمران نے کہا کہ پاکستانی بولرز نے بارہا نوبالز کیں، ایکسٹرا رن دئے لیکن پاکستان کے نکتہ نظر سے سب سے عجیب بات یہ تھی کہ اس کے بولروں نے تین کھلاڑیوں کو نوبالز پر آؤٹ کیا یعنی بھارت کے تین بہترین بلےبازوں کو میچ میں دو دو بار آؤٹ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی بولرز میں موجود اس ٹیلنٹ کے حوالے سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اب ایک بولنگ کوچ کی ضرورت ہے تاکہ بولروں کے نوبالز اور وائڈ بول جیسے چھوٹے چھوٹے مسائل کو ختم کیا جا سکے۔

News image
انضممام نے لاہور میں عمدہ سنچری بنائی

عمران خان نے کہا کہ پاکستانی بولروں کی طرف سے نوبالز اور وائڈ بالز کرانے کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم کے کپتان، منیجر اور کوچ تینوں ہی بیٹسمین ہیں اور بولرز کے ساتھ ڈیل کرنے کے لئے ٹیم کے پاس کوئی ماہر موجود نہیں ہے۔

وضاحت کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جب کوئی اچھی ٹیم مدِمقابل ہو تو بولروں کے پاس نوبالز اور وائڈ بولز کرنے اور مخالف ٹیم کے ٹاپ بیٹسمینوں کو نوبالز پر آؤٹ کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے اب پاکستان کو ضرورت ہے کہ وہ اپنے بولرز کو مزید پروفیشنل بنانے کے لئے خصوصی طور پر ایک سپیشلسٹ بولر کی خدمات حاصل کرے۔

لاہور میں کھیلے گئے میچ میں پچ کے حوالے سے انضمام کی شاندار سنچری اور ڈراوڈ کی عمدہ اننگز کے باوجود سچن تندولکر اور سہواگ کے نہ چلنے کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ دنیا کے تین تیز ترین بولرز میں سے دو یعنی شعیب اختر اور محمد سمیع پاکستان کے پاس ہیں۔

عمران نے لاہور کے میچ میں شعیب کی بولنگ کی تعریف کی اور کہا کہ دنیا میں شاید ہی کوئی ٹیم ایسی ہو جس کے پاس پاکستان جیسی فائر پاور موجود ہو۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے فاسٹ بولرز نے ابتدا میں بھارتی ٹیم پر خاصا دباؤ ڈالا جسے وہ بعد میں نوبالز اور وائڈ بالز کرنے کے سبب برقرار نہ رکھ سکے، یوں گیند پرانا ہوتا چلا گیا اور بھارتی بلے باز وکٹ پر سیٹ ہوتے چلے گئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد