بالنگ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سب سے پہلے تو یہ بات کہ زبر دست کرکٹ ہوئی۔ یعنی شائقین کو شاید ہی کبھی اتنی سنسنی خیر اور ہائی سکورنگ گیم دیکھنے کو ملی ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنا چاہیے تھا۔ اگر وہ پہلے بیٹنگ کرتے تو پاکستان نے میچ آرام سے جیت لینا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شام کو بالروں کے لئے بالنگ کرنا آسان ہو گیا تھا، ہوا چل رہی تھی۔ ہوا کے اندر گیند سوِنگ کرتا ہے، ریورس سوِنگ کرتا ہے اور پاکستانی بالروں کو اس سے بہت فائدہ ہونا تھا۔ لیکن پاکستان نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے کھلایا اور یہ وہ وقت تھا جب بالنگ کرنا سب سے مشکل تھا۔ اس وقت سخت دھوپ تھی اور پاکستانی بالروں کو جتنا مؤثر ہونا چاہیے تھا وہ انتے موثر نہیں ہو سکے۔ جب پاکستان کی پہلی دو وکٹیں جلد ہی گر گئیں تو ایسا لگا کہ پاکستان میچ سے باہر ہو گیا ہے۔ لیکن انضمام الحق کو اسی لئے ہم ورلڈ کلاس بیٹسمین کہتے ہیں کیونکہ انضمام الحق ایسی اننگز کھیلتے ہیں جو دنیا کے بہت کم کھلاڑی کھیل سکتے ہیں۔ان کے پاس ٹائمنگ ہے، کلاس ہے۔ انہوں نے بڑی کنٹرولڈ اننگز کھیلی۔ مارا بھی نہیں، کوئی سلوگنگ نہیں کی۔ ناپ تول کر ایسی اننگز کھیلنا اور وہ بھی پریشر میں، یہ صرف ایک ورلڈ کلاس بیٹسمین ہی کھیل سکتا ہے۔ انضمام الحق کی شاندار اننگز کی بدولت پاکستان کے لئے ایک بڑے حدف کا پیچھا کرنا ممکن ہوا۔ اس سے پہلے یوسف یوحنا نے بڑی اہم اننگز کھیلی۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی ٹیم ہاری تو ہے لیکن اسے اس ہار سے بھی فائدہ ہوگا۔ پاکستان جب میچ میں گیا تو وہ ٹیم بلکل تیار نہیں آئی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ بالر میچ فٹ نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے نو بال کئے، وائیڈ بال کئے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب بڑی دیر کے بعد ایک بالر میچ میں بالنگ کرے۔ اس کا پاکستان کو بہت نقصان ہوا۔ اگر بالنگ میں کنٹرول ہوتا تو ہم میچ جیت سکتے تھے۔ اگلے میچوں میں آپ دیکھیں گے کہ پاکستان کی بالنگ اس سے بہتر ہوگی کیونکہ اس میچ کے بعد بالروں کو وہ میچ پریکٹس ملی ہے جس کی انہیں شدت سے ضرورت تھی۔ اشیش نہرہ نے پریشر میں زبردست بالنگ کی۔ اگر آج نہرہ دباؤ کا اس طرح سامنا نہ کرتے جیسے انہوں نے کیا تو انڈین میچ ہار بھی سکتے تھے۔ نہرہ نے اتنے زبر دست سوِنگِنگ یارکر کئے کہ کوئی بیٹسمین بھی انہیں نہ مار سکا۔ بیٹنگ تو ہندوستان کی اصل طاقت ہے اور اس میں راہول ڈراوڈ کی سب سے کنٹرولڈ اننگز تھی۔ وریندر سہواگ نے سب سے زیادہ دھواں دار اننگز کھیلی۔ ان کی شاندار بیٹنگ نے پاکستان کو بیک فٹ پر ڈال دیا۔ اس اننگز کی وجہ سے انڈیا کا سکورنگ ریٹ تیزی سے اوپر گیا۔ ساڑھے تین سو رنز کا ٹارگٹ سیٹ کرنا، یہ صرف ایک مضبوط بیٹنگ لائن اپ ہی کر سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||