کرکٹ: سوال آپ کے، جواب عمران خان کے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فتح محمد خان، پشاور: آپ ماضی میں اسپورٹسمین تھے، اب سیاست دان ہیں۔ حال ہی میں یہ جو کھیل کود ہورہی ہے اس کے پس پردہ بھی سیاست ہے۔ مسئلہ کشمیر جسے صدر جنرل پرویز مشرف کور ایشو کہتے تھے، انہوں نے اس مسئلے سے یوٹرن لے لیا ہے۔ اس پر آپ کی رائے کیا ہے؟ عمران خان: (ہنستے ہوئے) میں تو سوچ رہا تھا کہ کرکٹ کی بات کروں گا لیکن اگر آپ نے یہ سوال پوچھ ہی لیا ہے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے موقف سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے کیونکہ یہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے، یہ زمین کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ معاملہ اس حق کا ہے جو سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری نے کشمیریوں کو دیا تھا کہ وہ اپنی زندگی اور مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ اس لئے ہم میں سے کسی کو بھی یہ کہنے کا حق نہیں پہنچتا کہ ہم نے سیکیورٹی کونسل کی قرارداد کو رد کردیا ہے۔ لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ دو جوہری طاقتوں کو یہ ٹینٹس پالنے اور فوجیں بارڈر پر تعینات رکھنے سے ایک تو جوہری جنگ کا خطرہ ہے اور دوسرا خطرہ ہمارے عوام کو بھوک اور بیروزگاری کا ہے۔ جب سرحدوں پر فوجیوں تعینات تھیں تب دونوں ممالک کا اربوں روپیہ خرچ ہورہا تھا۔ اگر یہی پیسہ عوام پر خرچ کیا جاتا تو بہت سے مسائل ختم کیے جاسکتے تھے۔ لہذا میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں یہ مسائل باہمی گفت و شنید کے ذریعے حل کرنا چاہئے۔ سید امیر شاہ، ابوظہبی:آپ، وسیم اکرم اور وقار یونس کے بعد پاکستان کو فاسٹ باؤلِنگ میں وہ مقام حاصل نہیں ہوسکا جو آپ لوگوں نے قائم کیا تھا۔ کیا ہمارے پاس ٹیلنٹ کی کمی ہے؟ یا پھر سیلیکشن کمیٹی صرف اور صرف سفارشوں پر ہی انحصار کرتی ہےکیونکہ ہماری ٹیم میں وِننگ باؤلرز کا اب بھی فقدان ہے؟ شعیب اختر بھی آپ جیسا مقام حاصل نہیں کرسکا۔ کیا وجہ ہے؟ عمران خان: سب سے پہلے تو میں یہ کہوں گا کہ پاکستان کے پاس اگر کوئی طاقت ہے تو وہ اس کے فاسٹ باؤلر ہیں جن میں شعیب اختر، محمد سمیع، دونوں ہی دنیا کے وِکٹ ٹیکِنگ باؤلر ہیں۔ محمد سمیع اگر خود کو فِٹ رکھ سکیں تو ان میں بہت صلاحیتیں ہیں۔ میں گزشتہ ورلڈ کپ کے دوران بی بی سی پر بھی بارہا کہتا رہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ محمد سمیع کو ورلڈ کپ کیوں نہیں کھیلایا گیا۔ جبکہ نیوزی لینڈ اور ساؤتھ افریقہ کے خلاف پاکستان نے جو سیریز جیتی ہیں اس کی شعیب اختر ہی ہیں۔ تو اس اعتبار سے ہمارے فاسٹ باؤلر ہی ہماری طاقت ہیں۔ میں نے جب عمران نذیر کو دیکھا تھا تو میں نے سوچا تھا کہ وہ پاکستان کے ہی نہیں بلکہ دنیا کے ورلڈ کلاس بیٹسمین کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ بڑے افسوس کی بات ہے عمران نذیر اس کے بعد مزید آگے نہیں بڑھ سکے جس کی سب سے بڑی وجہ پاکستانی فرسٹ کلاس کا فرسودہ نظام ہے۔ پاکستان میں فرسٹ کلاس کا نظام انتہائی غیرمعیاری ہے۔ آسٹریلیا کی کامیابی کی وجہ ہی یہ ہے کہ ان کی فرسٹ کلاس کرکٹ کا معیار بہت بلند ہے۔ میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ اگر ہم پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا معیار درست کردیں تو ایسا ایسا ٹیلنٹ دیکھنے میں آئے گا کہ سب دنگ رہ جائیں گے۔ عظمت چودھری، نیوجرسی، امریکہ:پریکٹِس میچ میں عمران نذیر اور توفیق عمر کی شاندار کارکردگی کے بعد کیا آپ یہ تجویز دینگے کہ ان دونوں کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے کے معاملے پر دوبارہ غور کیا جائے۔ اگر آپ خود چیف سیلیکٹر ہوتے تو کیا کرتے؟ کیا ان دونوں کھلاڑیوں کے موجودہ سیریز یا مستقبل میں ٹیم میں آنے کے امکانات ہیں یا نہیں؟ عمران خان:میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر میں سیلیکٹر تو نہیں، لیکن اگر کپتان ہوتا تو توفیق عمر کو فوری طور پر ٹیم میں شامل کرلیتا۔ کیونکہ وہ بلے باز جس کا اعتماد بحال ہو اور وہ اچھی کارکردگی دکھا رہا ہو اس کو ٹیم میں شامل کرنے کا بہت فائدہ ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر کل کے میچ میں توفیق عمر نہ بھی کھیلے تو عنقریب وہ ضرور کھیلیں گے۔ لیکن عمران نذیر کے معاملے میں مجھے لگتا ہے کہ ان کا ٹیمپرامنٹ ابھی بھی سسپیکٹ ہے۔ کیونکہ جب وہ باؤلروں کی پٹائی کرنے پر آتے ہیں تو انہیں روکنا مشکل ہوجاتا ہے لیکن میرے خیال میں ان کا دفاع ابھی اتنا مضبوط نہیں ہے۔ اس کے باوجود اگر میں کپتان ہوتا تو عمران نذیر پر بھی نظر رکھتا کیونکہ عمران نذیر میں میچ وِننگ بیٹسمین ہونے کی صلاحیت موجود ہے اور وہ ایک بہت غیرمعمولی فیلڈر بھی ہیں۔ شفیع نقی جامعی: بھارت کے سامعین کی جانب سے یہ سوال آیا ہے کہ سورو گنگولی کی کپتانی میں پاکستان آنیوالی اس بھارتی ٹیم کے بارے میں، جس میں سچن تندولکر جیسے بلے باز اور عرفان پٹھان اور ظہیر خان جیسے باؤلر شامل ہیں، آپ کا کیا خیال ہے؟ عمران خان:بھارتی ٹیم نے آسٹریلیا میں جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے وہ یقینی طور پر انتہائی قابل ستائش ہے۔ کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ بھارتی ٹیم آسٹریلیا جاکر اس قدر اچھا مقابلہ کرے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر گنگولی صحیح وقت پر انِنگز ڈیکلیئر کردیتے تو وہ سیریز جیت بھی سکتے تھے۔ میرے خیال میں آسٹریلیا میں ایسی کارکردگی کی بنا پر اب بھارتی ٹیم کا اعتماد خاصا بحال ہوچکا ہے۔ اس لئے وہ پاکستان میں بڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرینگے۔ میرے خیال میں یہ پہلا موقع ہے جب ایک ایسی بھارتی ٹیم پاکستان آرہی ہے جسے فارم کے اعتبار سے پاکستان پر برتری حاصل ہے اور لوگ اسے فیورٹ ٹیم قرار دے رہے ہیں۔ بھارت کی بیٹِنگ خاصی مضبوط ہے لیکن ان کی باؤلِنگ انِل کمبلے اور ہربھجن سنگھ کی غیرموجودگی کے باعث قدرے کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ ظہیر خان بھی پوری طرح فِٹ نہیں ہیں۔ سید ظہور احمد، کوئٹہ:پاکستان کی پِچ باؤلروں کے مقابلے میں بلے بازوں کے لئے عموما زیادہ سازگار ہوتی ہیں۔ اس کی حالیہ مثال پریکٹس میچ میں بھی دیکھی گئی ہے۔ پاکستان زیادہ تر اپنے باؤلروں پر انحصار کرتا ہے، جبکہ بھارت اپنے بلے بازوں پر انحصار کرتا ہے۔ اس لئے پِچ کے حوالے سے آپ کیا کہتے ہیں؟ عمران خان:آپ نے بالکل درست کہا ہے کیونکہ پریکٹِس میچ کے دوران میں نے بھی یہ سوچا کہ اگر اس پِچ پر پیڈ باندھ کر چلاجاؤں تو کچھ اسکور ضرور کرلوں گا۔ اس لئے آسان بیٹِنگ وِکٹ ہونے کی وجہ سے بھارتی ٹیم کو ہی ہوگا۔ عقل تو یہ کہتی ہے کہ تیز پِچ تیار کیے جانے چاہئیں تاکہ پاکستانی باؤلروں کو فائدہ ہو۔ لیکن کیا تیز پِچ تیار کرنا ممکن ہے؟ دوسری اہم بات یہ ہے کہ آجکل موسم کے اعتبار سے گرمی زیادہ پڑرہی ہے، اس لئے یاد رکھیں کہ گرمی کے موسم میں تیز باؤلر کیلئے اپنی پیس برقرار رکھنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اب چونکہ پاکستان کا انحصار تیز باؤلروں پر ہے اس لئے گرم موسم میں فاسٹ باؤلرز کا لمبے اسپیل کرنا مشکل ہوجائے گا جو کہ پاکستان کے حق میں نہیں ہوگا۔ محمد اشفاق خان پٹھان، سوات، پاکستان: پاکستان کے لئے بھارتی ٹیم کے اس دورے کی کیا اہمیت ہے؟ اور دونوں ممالک کے تعلقات میں کیا بہتری آئے گی؟ عمران خان: بھارتی ٹیم کی جانب سے پاکستان کے دورے سے یہ ہوگا کہ بھارتی شائقین، بھارتی ذرائع ابلاغ، تبصرہ نگار اور دیگر اہم شخصیات پاکستان آئیں گی اور وہ واپس جاکر اپنے تجربات کے بارے میں لوگوں کو بتائیں گے۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جب میں پاکستانی ٹیم کے ساتھ پہلی دفعہ بھارت جارہا تھا تو ہم بھی سوچتے تھےکہ وہاں نہ جانے کہ کس طرح کے دشمن ہونگے اور ہم سے نہ جانے کیا برتاؤ کیا جائے گا۔ لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو جس طرح ہماری مہمان نوازی کی گئی، جس طرح ہماری خاطرداری کی گئی، لوگوں نے ہمیں گھروں پر بلایا، تو ہم بالکل مختلف تاثرات لیکر پاکستان واپس آئے۔ اسی طرح جب بھارتی ٹیم کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا جائے گا، ان کی بھی مہمان نوازی کی جائے گی تو وہ بھارت جاکر پاکستانی لوگوں کی تعریف کرینگے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہونگے۔ ضیاء القمر، صوابی، پاکستان: پاکستان کے پاس فاسٹ باؤلر ہونے کے باوجود منتظمین سلو پچ کیوں بناتے ہیں؟ عمران خان: (ہنستے ہوئے) میں نے بیس سال کرکٹ کھیلی ہے جس دوران ہم سب کھلاڑی بھی یہی رونا روتے رہتےتھے کہ مری ہوئی وکٹیں ہوتی ہیں اور ہمارا خون پسینہ لگ جاتا ہے۔ ہمارا یہی اسرار ہوتا تھا کہ تیز وکٹیں بنائی جائیں لیکن تیز وکٹیں نہیں بنتی تھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں علاقائی سطح پر کرکٹ نہیں ہوتی، بلکہ ملکی ادارے کرکٹ کے اندر گھسے ہوئے ہیں۔ اور اداروں کے پاس گراؤنڈیں نہیں ہیں اس لئے وہ گراؤنڈیں کرائے لیکر میچ کھلاتے ہیں جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو مختلف میدانوں میں کھیلنے کا موقع نہیں ملتا۔ جبکہ ساری دنیا میں علاقائی سطح پر کرکٹ کھیلی جاتی ہے، جیسے کاؤنٹی کرکٹ وغیرہ جن کی اپنی گراؤنڈیں ہوتی ہیں اور کھلاڑیوں کو مختلف پچوں پر کھیلنے کا موقع ملتا ہے اور پچوں کی صحت بھی برقرار رہتی ہے۔ ختم شد |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||