BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 March, 2004, 14:22 GMT 19:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پہلی جیت انڈیا کی
خوشی
انڈین فاسٹ بالر اشیش نہرہ نے میچ کے آخری اوور میں مضبوط اعصاب کا مظاہرہ کر کے کھیل کا پانسہ پلٹ دیا
کراچی میں کھیلے گئے پہلے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچ میں انڈیا نے سنسنی خیر مقابلے کے بعد پاکستان کو پانچ رنز سے ہرا دیا۔

انڈیا کی ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ پچاس اورز میں سات وکٹوں پر تین سو انچاس رنز بنائے۔

پاکستان کی ٹیم کپتان انضمام الحق کی شاندار سینچری کے باوجود مطلوبہ سکور پورا نہ کر سکی۔

پاکستان کو میچ جیتنے کے لئے آخری گیند پر چھ رنز کی ضرورت تھی لیکن وکٹ کیپر معین خان اشیش نہرہ کی گیند پر ظہیر خان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

انڈین فاسٹ بالر اشیش نہرہ نے میچ کے آخری اوور میں پاکستانی بیٹسمینوں کو کھل کر نے کھیلنے دیا۔ انہوں نے اس اوور میں صرف تین رنز دیئے اور ایک وکٹ حاصل کی۔

انضمام الحق
انضمام الحق کی شاندار سینچری پاکستان ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکی
پاکستانی ٹیم کے کوچ جاوید میانداد نے پاکستانی بالنگ کو شکست کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ فاسٹ بالروں کی طرف سے دیئے گئے دس وائیڈ اور بیس نو بال ٹیم کی شکست کا باعث بنے۔

میچ کا مجموعی سکور چھ سو ترانوے رہا جو ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کا ایک ریکارڈ ہے۔

آج صبح پاکستان نے ٹاس جیت کر انڈیا کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ انڈین اوپنر وریندرسہواگ نے ستاون گیندوں پر ایک چھکے اور چودہ چوکوں کے مدد سے اناسی رنز بناکر اپنے ٹیم کو ایک اچھا آغاز فراہم کیا۔

انڈیا کی طرف سے راہول ڈراوڈ نے ننانوے رنز بنائے۔ انہیں شعیب اختر نے بولڈ کیا۔ محمد کیف نے چھیالیس جبکہ کپتان سورو گنگولی نے پینتالیس رنز بنا کر اپنے ٹیم کے سکور میں قابل قدر اضافہ کیا۔

پاکستان کی طرف سے آل راؤنڈر رانا نوید الحسن نے تین جبکہ شعیب اختر اور محمد سمیع نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

پاکستان کو اپنی اننگز کے آغاز میں ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب دونوں اوپنر بغیر کوئی بڑا سکور کئے پویلین لوٹ گئے۔

انڈیا کا زیادہ سے زیادہ سکور
376/2 بمقابلہ نیوزی لینڈ حیدرآباد 1999
373/6 بمقابلہ سری لنکا ٹوننٹن 1999
353/5 بمقابلہ نیوزی لینڈ 2003
351/3 بمقابلہ کینیا پارل 2001
349/7 بمقابلہ پاکستان کراچی 2004

کپتان انضام الحق اور یوسف یوحنا کی شاندار پارٹنرشپ پاکستان کو میچ میں واپس لے آئی۔ انہوں نے تیسری وکٹ کی شراکت میں ایک سو پینتیس رنز بنائے۔

یوسف یوحنا نے اڑسٹھ گیندوں پر چار چھکوں اور پانچ چوکوں کے مدد سے تہتر رنز بنائے۔

یوسف یوحنا کے آؤٹ ہونے کے بعد انضمام الحق کا ساتھ دینے کے لئے یونس خان کھیلنے آئے اور چوتھی وکٹ کی شراکت میں ایک سو نو رنز بنے۔

انضام الحق نے ایک سو چار گیندوں پر دو چھکوں اور بارہ چوکوں کی مدد سے ایک سو بائیس رنز بنائے۔

انضمام الحق کے آؤٹ ہونے کے بعد یونس خان اور عبدالرزاق نے رنز بنانے کا سلسلہ جاری رکھا اور ایک مرحلے پر پاکستانی شائقین کو یہ امید نظر آنے لگی کہ ان کی ٹیم میچ جیت بھی سکتی ہے۔

میچ کے آخری دو اوورز فیصلہ کن ثابت ہوئے۔ محمد کیف نے ایک شاندار کیچ لے کر شعیب ملک کو پویلین کی راہ دکھائی۔

شعیب ملک کے ایک غیر ضروری شاٹ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہونے کے بعد بھارتی بالر میچ کو پاکستان کی پہنچ سے دوور لے گئے۔

میچ کی آخری گیند پر پاکستان کو چھ رنز کی ضرورت تھی لیکن معین خان کراچی کے اس سنسنی خیر مقابلے کو شارجہ میں کھیلے گئے فائنل مقابلے کی سطح پر نہ لا سکے اور ایکسٹرا کور پر ایک کیچ تھما کر چلتے بنے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد