بھارتی ٹیم کے ساتھ ایک سفر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی کرکٹ ٹیم کی سیکیورٹی اتنی زیادہ ہے کہ پاکستانی عوام جو کہ شدت سے بھارتی کرکٹرز کا انتظار کر رہی تھی ان سے بات کرنا دور ان کی قریب سے ایک جھلک دیکھنے کے لیے بھی ترس گئے ہیں۔ دوسری جانب بھارتی کرکٹرز بھی ایک انجانے سے خوف کا شکار ہیں اور پاکستان آنے کے بعد سے اب تک شدید حفاظتی انتظامات کے سبب لوگوں سے گھلنے ملنے سے کتراتے ہیں۔ جمعے کے روز جب بھارتی ٹیم لاہور سے کراچی روانہ ہوئی تو بڑی تعداد میں پولیس والے انہیں ہوائی جہاز تک لے کر آئے مگر ظاہر ہے کہ یہ پولیس والے جہاز میں تو سوار نہیں ہو سکتےاس لیے یہ مسافروں کے لیے ایک نادر موقع تھا کہ وہ ان کوکٹرز سے کوئی بات کر سکیں۔ جس نشست پر سرو گنگولی اور سچن ٹنڈولکر بیٹھے تھے اس سے تین نشستیں پیچھے بیٹھی ہوئي میں مسافروں کے چہروں پر جوش اور حیرانگي کے ملے جلے تاثرات دیکھ رہی تھی۔ جہاز کے اڑنے کے کچھ دیر بعد تک تو کوئی مسافر بھارتی کرکٹرز کے پاس نہ آیا کہ کہیں سفید کپڑوں میں ملبوس کوئی سیکیورٹی اہلکار اس کا راستہ نہ روک دے۔ پھر تو گویا تانتا بندھ گیا قریب بیٹھے سبھی مسافر باری باری اٹھنے لگے کوئی آٹو گراف کے لیے تو کوئی تصویر کھنچنے کی غرض سے اور جس کے پاس مووی کیمرا تھا وہ فلم بنانے لگے۔مائرہ نامی ایک خاتون جو کہ اپنے چھوٹے سے مووی کیمرے سے بھارتی کھلاڑیوں کی فلم بنا رہی تھی اس کا کہنا تھا کہ وہ بہت خوش ہے کہ وہ بھارتی ٹیم کے ساتھ سفر کر رہی ہے اور اسے سچن جیسے بڑے بیٹسمین کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ایک اور مسافر کہہ رہا تھا کہ وہ کرکٹ کا بہت شوقین ہے مگر اس نے تو کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ بھارتی ٹیم کے ساتھ ایک ہی جہاز میں سفر کرے گا وہ آج بہت خوش ہے۔ سفر ختم ہوا اور جہاز کا کراچی کے پرانے ٹرمینل پر اتارا گيا۔ مسافروں کو اس وقت تک جہاز ہی میں رکنے کے لیے کہا گيا جب تک کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کو انتہائی سخت سیکیورٹی میں گاڑیوں میں سوار کر کے ان کے ہوٹل کی جانب روانہ نہیں کیا گیا۔کراچی سٹیڈیم میں اپنی پریس کانفرنس میں جہاز میں مسافروں کے پر جوش برتاؤ پر گنگولی کا کہنا تھا کہ پاکستانی لوگ بہت مہمان نواز ہیں اور جس طرح انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا ہے ہم اس پر بہت خوش ہیں۔ اگر چہ پریس کانفرنس میں گنگولی نے کہا کہ اتنی سیکورٹی کے باوجود وہ کسی دباؤ میں نہیں اور انہیں کسی بات کا ڈر نہیں لیکن دوران پرواز یہ محسوس کیا گيا کہ بھارتی ٹیم کے کھلاڑی کچھ تناؤ کی شکار ہیں کیونکہ ان کے چہروں پر اطمینان کا تاثر ڈھونڈے سے بھی دکھائي نہیں دے رہا اور یہی تناؤ ان کے پاکستان کی اے ٹیم کے ساتھ میچ میں بھی نظر آيا اب اس خوف کا اثر ہفتے کے روز ہونے والے کراچی کے ایک روزہ میچ اور باقی میچوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے یا نہیں یہ تو وقت آنے پر ہی معلوم ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||