BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
توفیق کو ٹیم میں ہونا چاہئے
۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان نے کہا ہے کہ توفیق عمر اور عمران نذیر کو بھارت کے خلاف کھیلنے والی پاکستانی ٹیم میں شامل ہونا چاہیے تھا۔

بی بی سی اردو سروس کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں سامعین کے سوالوں کے براہ راست جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ توفیق عمر ’ان فارم بیٹس مین‘ ہیں اور انھیں ٹیم میں شامل کیا جانا چاہئے۔

عمران خان نے یاد دلایا کہ توفیق عمر نے عالمی کپ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن بعد میں وہ ٹیم سے غائب ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ توفیق عمر نے ان ہی بالروں کے خلاف سنچری بنائی ہے جنہوں نے باقی میچوں میں بالنگ کرانا ہے۔

عمران نے کہا کہ عمران نذیر کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ یہ بین الاقوامی معیار کے بلے باز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران نذیر ایک با صلاحیت کھلاڑی ہیں اور وہ ٹیم کو میچ جتانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران نذیر کو ’ٹیمپرامنٹ‘ یا مزاج کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا عمران نذیر کو اپنے دفاع کو بہتر بنانا ہوگا۔

پاکستان نے شعیب اختر اور محمد سمیع کے بارے میں کہا کہ وہ پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں
شعیب اختر نے بہت اہم کردار ادا کیا۔

عمران نے کہا کہ سمیع کو عالمی کپ میں حصہ لینے والی ٹیم میں بھی شامل کیا جانا چاہیے تھا۔

پاکستانی ٹیم کی فارم کےبارے میں عمران نے کہا یہ تو کل میچ کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ پاکستانی ٹیم کی فارم کس سطح پر ہے۔

انہوں نے کہا لاہور میں پاکستان اے کے خلاف میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پریکٹس میچ اور باقاعدہ میچ میں بہت فرق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا اس میچ میں جیتنے کے بعد یہ کہنا بالکل غلط ہوگا کہ پاکستان سیریز جیت جائے گا۔

پاکستان میں تیار کی جانے والی وکٹوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کے ڈھانچے پر وہ ہمیشہ ہی اعتراضات کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ مختلف اداروں کے ہاتھ میں ہے جن کے پاس اپنے میدان نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے ان وکٹوں پر اتنے زیادہ میچ کھیلے جاتے ہیں اور نتیجاتاً یہ بالکل مردہ ہو کر تیز رفتار بالروں کا قبرستان بن جاتی ہیں۔

کرکٹ سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کرکٹ کو ایک کھیل کی طرح ہی لینا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے لوگوں کے درمیان اس سے زیادہ شرمناک بات کوئی نہیں ہوسکتی کہ وہ اتنے کمزور لوگ ہیں کہ وہ کرکٹ کے کھیل کو بھی برداشت نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہارنے سے ڈرتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ ’اگر ہم ہار بھی جاتے ہیں تو ہمیں اسے کھیل کا حصہ ہی سمجھنا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کرکٹ کے کھیل سے دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد