BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 March, 2004, 20:49 GMT 01:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ٹکر برابر کی ہے‘

تندولکر
ظہیر عباس کا کہنا ہے کہ بھارتی بیٹنگ بہتر ہے
پاکستان کے لوگ ہمیشہ سے یہی کہہ رہے تھے کہ بھارت کی ٹیم پاکستانی ٹیم سے بہت زیادہ مضبوط ہے، خاص طور پر بیٹنگ میں۔ لیکن بھارت کی ٹیم کا پاکستان اے کی ٹیم سے شکست کی صورت میں نتیجہ بلکل مختلف آیا ہے۔

اب یہاں سارے لوگوں کو یہ امید ہو چلی ہے کہ پاکستانی بیٹسمین بھارت کے بالنگ اٹیک کا سامنا کر سکیں گے کیونکہ پاکستانی بیٹنگ کو اتنا مضبوط تصور نہیں کیا جا رہا تھا۔

اب اگر آپ پاکستان کی بالنگ کو دیکھیں تو پاکستان کو برتری حاصل ہے۔ لہذا یہ مقابلہ برابر کا ہے۔

لیکن میں آپ کو بھارت کی ٹیم کے دو اہم مثبت پہلوؤں کے بارے میں بتانا چاھوں گا۔ ایک تو یہ کہ بھارت کی بیٹنگ بہت اچھی ہے اور دوسرے ان کی فیلڈنگ بہت اچھی ہے۔

جبکہ ہمارا مثبت پہلو یہ ہے کہ ھماری بالنگ بہت اچھی تو نہیں ہے لیکن قدرے بہتر ہے۔ اسطرح دیکھا جائے تو برتری بھارت کی بیٹنگ کو حاصل ہے۔

توفیق عمر سست بیٹنگ کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ اب انہوں نے پہلی دفعہ ٹک کر اور ٹھیک طرح سے کھیل کر دکھایا ہے اور تیز سکور کیا ہے_ ورنہ عموماّ وہ دھیمے دھیمے بیٹنگ کرتے ہیں۔

بھارت کی دو اہم باتیں
 ایک تو یہ کہ بھارت کی بیٹنگ بہت اچھی ہے اور دوسرے ان کی فیلڈنگ بہت اچھی ہے۔
ظہیر عباس

میرے خیال میں آج صبح کے میچ کے لئے کراچی کی وکٹ بالکل سیدھی ہو گی، نہ تیز اور نہ ہی آہستہ۔ یہ وکٹ بلے بازوں کے لئے جنت ثابت ہو گی۔

بھارت کی اچھی بیٹنگ لائن اپ کے مقابلے کے لئے ضروری ہے کہ بالنگ لائن اور لینتھ اچھی ہونی چاہیے۔ اگر آپ وکٹوں سے دورگیند کرتے ہیں تو یہ لازمی ہے کہ آپ بہت مار کھائیں گے۔

جیسے جیسے گیندیں صحیح رخ پر جانا شروع ہوتی ہیں ویسے ویسے وقت گزرنے کےساتھ فیلڈنگ بہتر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

بھارت اور پاکستان اے کے درمیان ہونے والے میچ سے یہ بات سامنے آ گئی ہے کہ بھارت کی بالنگ میں جان نہیں ہے۔ میرے خیال میں بھارتی ٹیم کے لئے ہربھجن سنگھ اور انیل کمبلے کو نہ چن کر بھارتی سلیکشن کمیٹی نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ ہرچند سنا یہی ہے ہربھجن سنگھ فٹ نہیں تھے لیکن انیل کمبلے کے معاملے میں ایسا نہیں تھا کہ وہ آ نہ سکتے۔

پاکستان اے کے خلاف میچ میں بھارتی کھلاڑی بڑے سکون کے ساتھ کھیل رہے تھے اور بہت خوش تھے۔ بات دراصل یہ ہے کہ سکیورٹی کے بارے میں بھارتی پریس نے بہت زیادہ بول بول کر یہ صورتحال پیدا کر دی ہے۔ بلکہ بھارتی پریس کے اسطرح شور مچانے سے ان کے اپنے کھلاڑیوں پر دباؤ آگیا ہے۔ لیکن میچ کی پہلی گیند کے ہوتے ہی سارے دباؤ ختم ہو جائیں گے اور کھلاڑیوں کی توجہ اپنے کھیل کی طرف مبذول ہو جائے گی۔

شائقین
شائقین بھارتی ٹیم کی آمد پر انتہائی پر جوش ہیں

کوئی بھی ٹیم اگر ہارتی ہے تو دباؤ میں آ جائےگی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر پاکستان جیتتا ہے تو بھارت کو پھر بھی اپنی مضبوط بیٹنگ لائن اپ سے کچھ سہارا مل جائے گا۔ جبکہ پا کستان اگرہارتا ہے تو اس پر دباؤ بڑھ جائے گا۔

بعض چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے میں کسی ایک سائیڈ کو زیادہ فوقیت نہیں دینا چاہتا۔ یہ ضرور ہے کہ پاکستان اے ٹیم کی جیت سے پاکستانی ٹیم کی بڑی حوصلہ افزائی ہو گی۔ لیکن میں یہ کہوں گا کہ پاکستانی ٹیم دباؤ میں ضرور کھیلے گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد