شبیر میرے مین آف دی میچ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور کا میچ بہت زبردست تھا کیونکہ پہلی دفعہ وکٹ کے اندر موومنٹ دیکھنے میں آئی۔ ابتک ہم نے دیکھا ہے کہ ساری پچز پیٹسمین کی مدد کرتی تھیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ وکٹ نے بولر کی مدد کی۔ شبیر احمد نے زبردست بولنگ کی ہے اور میری نظر میں تو مین آف دی میچ بھی وہی ہیں۔ وہ میرے مین آف دی میچ اس لیے ہیں کہ انہوں نے انڈیا کے سارے ٹاپ آرڈر کو آؤٹ کر دیا۔ اور ٹاپ آرڈر کے آؤٹ ہوتے ہی سارے کا سارا پریشر انڈین بیٹنگ پر پڑ گیا۔ انڈیا اس کے بعد آخر تک اپنے آپ کو گیم میں واپس لانے کی کوشش کرتا رہا۔ میں یہ بھی ضرور کہوں گا کہ انڈیا کے ٹیل اینڈرز نے بہت اچھی بیٹنگ کی اور آخری پانچ اوورز میں پچاس کے قریب سکور بنائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یاسر حمید کی بیٹنگ کی بھی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ لیکن میں یہ کہوں گا کہ پاکستان کو ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنی چاہیئے اور وہ اس لئے کہ پاکستان کی اصل طاقت تو ان کی بولنگ میں ہے۔ ہم پہلے رنز چیز کر کے میچ ضرور جیتے ہیں لیکن ہار جیت تو کسی سٹیج پر بھی ہو سکتی ہے۔ اصل بات ہے کہ تکنیکی طور پر کس چیز کی ضرورت ہے۔ جب آپ کی بولنگ میں طاقت ہے تو آپ پہلے بیٹنگ کر کے ایک ٹارگٹ سیٹ کرتے ہیں اس ٹارگٹ کا پریشر پر جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ جب آپکی بولنگ اچھی ہے تو وہ مزید پریشر ڈال سکتی ہے۔ میں جب کپتان تھا تو پہلے بیٹنگ کرنے کو ترجیح دیتا تھا اور ایک ٹاگٹ سیٹ کیا جاتا تھا اور اسکے بعد اچھی بولنگ سے ہم اس ٹارگٹ کو حاصل کر لیتے تھے۔ ہم نے اکثر اچھے میچ اسی طرح جیتے۔ اس میچ میں پاکستان نے زیادہ رنز اس لئے بھی دیے کہ صبح صبح گیند نے موو کیا اور کیونکہ پاکستانی بولرز کو اس کی عادت نہیں تھی اور اسی لئے ان سے زیادہ وائڈ بال ہوئے۔ خاص طور پر شبیر احمد جو زخمی ہونے کے بعد ٹیم میں واپس آئے ان کا گیند پر کنٹرول کم تھا۔ تاہم میں یہ ضرور کہوں گا کہ پاکستان کی بولنگ بہتر ہوتی جا رہی ہے۔ کراچی میں پاکستانی بولرز میں میچ فِٹنس نہیں تھی۔ وہ نیٹ اور کیمپ میں تو اچھی گیند کر رہے تھے لیکن میچ میں ان کی بولنگ میں بڑا فرق تھا۔ جب وہ میچ میں آئے تھے تو انکا کنٹرول کم نظر آ رہا تھا۔ دوسرا اگر پاکستانی کھلاڑی شروع میں کچھ کیچ پکڑ لیتے تو انڈیا کے کھلاڑیوں کو اس سے بھی کم پر آؤٹ کیا جا سکتا تھا۔ پشاور کے میچ کے بعد سائکلوجیکل پریشر پاکستان کے حق میں آ گیا ہے۔ اب اگر پاکستان اگلا میچ ہار بھی جائے تو وہ سیریز میں رہتا ہے۔ اب لاہور کے گراؤنڈ میں پاکستانی کھلاڑی زیادہ اعتماد سے جائیں گے۔ دوسرا انڈیا کے پاس زیادہ اچھے بولرز نہیں ہیں۔ انہیں میچ کے درمیان میں پارٹ ٹائم بولرز سے گیند کروانا پڑتی ہے۔ اگر آج بھی ان کے پاس انیل کمبلے یا ہربھجن سنگھ ہوتے تو ہو سکتا ہے کہ جب پاکستان کی چھ وکٹیں گِر گئیں تو وہ پاکستان کو پھنسا لیتے۔ ایک وقت پر پاکستان کے 60 کے سکور پر چار کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے اگر اس وقت ان کے پاس کوئی سپیشلسٹ بولر ہوتا تو پاکستان پر دباؤ ڈالا جا سکتا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||