’پہلے بیٹنگ کا فیصلہ درست تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی میں پاکستان اور بھارت کے مابین دوسرا ایک روزہ میچ پاکستان نے بارہ رنز سے جیت لیا ہے۔ پاکستان کے سابق کپتان عمران خان نے اس میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انضمام کا ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنےکا فیصلہ درست تھا۔ عمران خان پاک بھارت سیریز پر ہر میچ کے بعد بی بی سی اردو کے لئے خصوصی تبصرہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اچھا آغاز کیا تاہم بعد میں کم سے کم دو فیصلہ ان کے خیال میں درست نہیں کیے گئے۔ ان کے خیال میں انضمام کو تیسرے نمبر پر خود بیٹنگ کے لئے آنا چاہئے تھا کیونکہ بہترین کھلاڑی جتنی دیر تک وکٹ پر رہے اتنا ہی ٹیم کے لئے فائدہ مند ہوتا ہے۔ عمران نے کہا کہ عبدالرزاق کو دیر سے بھیجا گیا۔ انہیں معین خان سے پہلے بھیجا جانا چاہئے تھا۔ اس طرح ممکن تھا کہ پاکستان پندرہ بیس مزید رنز بنا لیتا۔
تاہم عمران نے کہا کہ تین سو تیس کا ٹارگٹ زبردست تھا۔ پاکستان کی فیلڈنگ اور بالنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنڈی میں کارکردگی بہتر تھی کیونکہ کراچی میں پہلا میچ تھا۔ انہوں نے کہا کہ محمد سمیع نے شاندار بالنگ کی حالانکہ یہ پِچ تیز بالر کے لئے بالکل مددگار نہیں تھی۔ پاکستانی وکٹوں کے بارے میں عمران کا کہنا تھا کہ یہاں عام طور پر بیٹنگ وکٹس بنائی جاتی ہیں اور پھر مارچ اور اپریل میں تو یہ وکٹیں بیٹسمینوں کو زیادہ مدد دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا بالنگ اٹیک اس وقت بہت کمزور ہے اور سوائے نہرا کے کوئی دوسرا بالر پاکستانی بیٹسمنوں کو تنگ نہیں کر سکا۔ عمران نے کہا کہ پاکستان کو آرام سے سکور کرنا چاہئے۔ سچن تیندولکر کی بیٹنگ کو سراہتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وہ بالکل اسی طرح کھیلے جیسا کہ کراچی میں انضمام الحق کھیلے تھے اور یہ کہ وہ طاقتور بالروں کے سامنے جم کر کھیلے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||