| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان: تین کوچ زیادہ تو نہیں؟
پاکستان بھارت کے ساتھ مارچ میں شروع ہونے والی کرکٹ سیریز کی تیاری میں کوئی کثر اٹھا نہیں رکھنا چاہتا۔ صرف بالنگ کے شعبے میں تیاری کے لئے تین سابق فاسٹ بالروں عمران خان، عاقب جاوید اور وسیم اکرم کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان آصف اقبال کا جو دونوں ممالک کے درمیان چودہ سال بعد کسی سیریز کے انعقاد پر بہت خوش ہیں کہنا ہےکہ تین کوچ ضرورت سے زیادہ ہو جائیں گے۔ ان کا خیال تھا کہ تجربے کو مد نظر رکھتے ہوئے عمران اور وسیم کافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑی ان کی عزت کرتے ہیں اور ان کی ہدایات توجہ سے سنیں گے۔ پاکستان کی کرکٹ انتظامیہ نے فاسٹ بالر محمد سمیع کے بارے میں کچھ تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بعض موقعوں پر انتہائی مشکل بالر ثابت ہونے والے سمیع کبھی عام سی گیندیں کراتے ہیں۔ سمیع کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی کارکردگی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ آصف اقبل کا کہنا جہاں سمیع نے اکیلے میچ جتائے ہیں وہیں پر انہوں نے کئی مقابلوں میں سادہ سی گیندیں بھی کرائی ہیں۔ بھارت کے ساتھ سیریز کہ دوران ٹیم کا دارومدار نوجوان کھلاڑیوں پر ہوگا جو دباؤ میں ہوں گے۔ آصف اقبال کے خیال میں پاکستان کی ٹیم بھارت کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ متوازن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا میں عمدہ کھیل کے مظاہرے کے بعد بھارت کی ٹیم بہت پر اعتماد ہوگی اور ان کے ساتھ مقابلے کو آسان نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا پاکستان نے بھی حال ہی میں جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کو اپنے ملک میں شکست دی ہے۔ بھارت کی بیٹنگ بہت اچھی فارم میں ہے جبکہ پاکستان کے بیٹسمین اور بالر دونوں ہی اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ آصف اقبال نے کہا کہ پاکستان کے لئے سمیع اور شعیب اختر کی فارم بہت اہم ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||