انضمام الحق کو تشویش کیوں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق اسوقت بیٹنگ کے عروج پر ہیں۔ موجودہ کھلاڑیوں میں وہ برائن لارا، سچن ٹنڈولکر اور راہول ڈراوڈ کے بعد سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں جبکہ ون ڈے انٹرنیشنل میں ان کے رنز کی تعداد سچن ٹنڈولکر کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ بحیثیت کپتان وہ پاکستانی ٹیم کو بھارت اور ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیابی سے ہمکنار کرنے کے بعد انگلینڈ کی ٹیم پر نگاہیں لگائے بیٹھے ہیں۔ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم اکتوبر میں پاکستان آنے والی ہے یہاں وہ تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے گی۔انگلینڈ نے آخری مرتبہ2000 ء میں ناصرحسین کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا تھا اور ٹیسٹ سیریز جیتی تھی۔ انضمام الحق عالمی رینکنگ کی نمبر دو ٹیم کے چیلنج کے لئے تیار ہیں لیکن کچھ معاملات پر انہیں تشویش بھی لاحق ہے۔ انضمام الحق کو سب سے زیادہ تشویش اپنے تیز بولرز کی فٹنس پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ میچ جیتنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے بولرز مکمل طور پر فٹ ہوں لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے محمد سمیع، شعیب اختر، عمر گل اور شبیراحمد فٹنس مسائل سے دوچار ہیں۔ صرف دانش کنیریا واحد فٹ بولر ہے۔ انضمام الحق انگلینڈ کو فاسٹ بولرز سے زیرکرنے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ان کے بولرز فٹ ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ مثبت کرکٹ کے لئے مثبت وکٹیں ضروری ہیں۔ انگلینڈ کی سیریز کے وقت اگر ان کے تیز بولرز فٹ ہوئے تو وہ تیز وکٹوں کو ترجیح دینگے کیونکہ ان کے خیال میں اسپن وکٹوں سے سیکھا نہیں جاسکتا۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ ان کے تیز بولرزکا انگلینڈ کے خلاف سیریز سے قبل مکمل طور پر فٹ ہونا بہت ضروری ہے۔ پاکستانی کپتان مشکوک بولنگ ایکشن کے قوانین سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان قوانین سے سب سے زیادہ متاثر پاکستانی ٹیم ہوئی ہے جس نے بحیثیت کپتان انہیں پریشانی میں مبتلا کردیا ہے انہیں امید ہے کہ جس طرح شعیب ملک کو کلیئر کیا جاچکا ہے اسی طرح شبیراحمد بھی کلیئر ہوجائیں گے۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ وہ ایشیز سیریز میں انگلینڈ کی کارکردگی پر گہری نظر رکھیں گے۔ پاکستانی ٹیم کو ہوم ایڈوانٹج حاصل ہوگا لیکن اسے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔آپ جس قدر مضبوط ٹیم سے کھیلیں گے آپ کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اس کی مثال پاکستانی ٹیم کی ہے جس نے آسٹریلیا کے دورے میں اگرچہ کوئی ٹیسٹ نہیں جیتا لیکن اس دورے کے بعد نوجوان کھلاڑیوں نے بھارت اور ویسٹ انڈیز میں عمدہ کارکردگی دکھائی اور کامیابی حاصل کی۔ انضمام الحق یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ آسٹریلوی ٹیم عروج کا زمانہ دیکھ چکی اور اس کے بولرز اب زوال پذیر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دو میچوں کی شکست اور خراب کارکردگی سے یہ رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ انضمام الحق کہتے ہیں کہ اگر انہیں آسٹریلیا کے خلاف سپرسیریز کے لئے عالمی الیون کی قیادت سونپی گئی تو یہ ان کے لئے اعزاز ہوگا۔ آئی سی سی نے ان میچوں کے لئے جن ممکنہ کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا ہے انضمام الحق ون ڈے اور ٹیسٹ دونوں اسکواڈز میں شامل ہیں اور قیادت کے مضبوط امیدوار بھی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||