انضمام اور شعیب میں اختلافات؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق اور فاسٹ بولر شعیب اختر کے درمیان شدید اختلافات کی اطلاعات بڑے تواتر سے سامنے آ رہی ہیں۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان ان اطلاعات کو تقویت ایک نجی ٹی وی چینل انڈس پر نشر ہونے والے اس پروگرام سے بھی ملتی ہے جس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف اور سابق فاسٹ بولر سکندر بخت شریک تھے۔ اس پروگرام میں یہ انکشاف کیاگیا کہ شعیب اختر نے راولپنڈی ٹیسٹ کے دوسرے دن کھیل ختم ہونے کے بعد کراچی راشد لطیف کو فون کرکے یہ گلہ کیا کہ کپتان انضمام الحق ان کی پسند کی فیلڈ کھڑی نہیں کررہے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شعیب اختر کو اگر اس قسم کی شکایت تھی تو انہوں نے اس کا اظہار کوچ منیجر یا کرکٹ بورڈ سے کیوں نہیں کیا؟ ان دونوں کے درمیان اختلافات کی خبریں ٹیسٹ میچ سے قبل ڈاکٹر توصیف رزاق کے مسئلے پر بھی سامنے آئی تھیں۔
راولپنڈی ٹیسٹ میں جب پاکستان ٹیم شعیب اختر سے غیرمعمولی کارکردگی کی توقع کررہی تھی وہ بائیں ہاتھ زخمی ہوجانے کے سبب میدان چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور کپتان انضمام الحق کے لئے سترہ اوورز گزارنا مشکل ہوگیا۔ لیکن تیسرے دن شعیب اختر کے بارے میں ملنے والی یہ اطلاع ہر کسی پر بجلی بن کر گری کہ فالو تھرو میں گرنے کے سبب ان کی کمر کا مسل بھی متاثر ہوا ہے اور ان کا بولنگ کرنا مشکل ہے ۔ اس صورتحال میں سوالات لازمی پیدا ہونگے کہ کہیں یہ کپتان اور فاسٹ بولر کے درمیان اختلافات کا نتیجہ تو نہیں ہے ۔ مبصرین اور تجزیہ نگار پہلے بھی یہ معاملہ اٹھاتے رہے ہیں کہ شعیب اختر کو دوسرے کھلاڑیوں کے مقابلے میں غیرضروری اہمیت دیا جانا ٹیم کے لئے نقصان دہ رہا ہے ۔
غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان ٹیم کے ساتھ اس وقت ڈاکٹر ریاض ، ڈاکٹر توصیف اور مساج کے لئے مامور عبدالرؤف موجود ہیں۔ بھارت کے خلاف سیریز سے قبل شعیب اختر سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ پوری نہ ہوسکیں اور وہ ون ڈے سیریز اور ٹیسٹ سیریز دونوں میں مستقل مزاجی سے بولنگ نہ کرسکے جس پر کپتان انضمام الحق کو ملتان ٹیسٹ کے بعد پریس کانفرنس میں یہ کہنا پڑا تھا کہ بڑا نام وہ ہے جو پرفارمنس دے۔ شعیب اختر نے کراچی کے پہلے ون ڈے میں 10 اوورز میں 55 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں جن میں سچن ٹنڈولکر کی وکٹ بھی شامل تھی۔ پنڈی کے ون ڈے میں انہوں نے 49 رنز کے عوض 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جو اس دورے میں ان کی سب سے عمدہ کارکردگی ہے۔ پشاور کے ون ڈے میں انہوں نے ایک وکٹ کے لئے 50 رنز دے ڈالے ۔ لاہور کے چوتھے ون ڈے میں انہوں نے غیرمتاثرکن بولنگ کا مایوس کن مظاہرہ کرتے ہوئے 9 اوورز میں 63 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں ساتھ ہی وہ 14 وائیڈ گیندیں کرانے کے ذمہ دار بھی تھے ۔ پانچویں میچ میں وہ رنز پر کنٹرول کرتے ہوئے 47 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن ملتان ٹیسٹ میں ان کی مایوس کن بولنگ کی بھاری قیمت پاکستان ٹیم کو چکانی پڑی اور وہ 32 اوورز میں 119 رنز کے عوض کوئی بھی وکٹ حاصل نہ کرسکے۔
تین ٹیسٹ میچوں کی اس انتہائی اہم سیریز میں کیا شعیب اختر کی سات وکٹیں ایک ایسے بولر کے شایان شان ہے جو اپنی رفتار پر نازاں ہے۔ اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ وکٹ صرف رفتار سے نہیں بلکہ درست لائن اور لینتھ پر کی گئی گیند سے گرتی ہے ۔ سپراسٹار ہونا پاکستان کرکٹ کا پرانا مسئلہ رہا ہے جس نے کھیل سے بڑا کھلاڑی کے تاثر کو ہمیشہ تقویت دی ہے ۔ پاکستان کرکٹ ٹیم اس پورے دورے میں شعیب اختر سے میچ وننگ اسپیل کی توقع کرتی رہی جبکہ اس سطح پر ہونے والی کرکٹ صرف چند اسپیل نہیں بلکہ مستقل مزاجی کی متقاضی ہے ۔ عمران خان وسیم اکرم اور وقار یونس کو دنیا صرف چند اسپیل کے سبب نہیں بلکہ تواتر کے ساتھ دکھائی گئی شاندار کارکردگی کے سبب ورلڈ کلاس کہتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||