| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
شعیب اختر کی اپیل مسترد
آئی سی سی کے کوڈ آف کنڈکٹ کے کمشنر رچی بینو نے پاکستان کے فاسٹ باؤلر شعیب اختر ایک میچ کھیلنے پر پابندی کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ شعیب پر آئی سی سی میچ ریفری کلائیو لائیڈ نے جنوبی افریقہ کے پال ایڈمز کے خلاف نامناسب الفاظ استعمال کرنے پر ایک ٹیسٹ اور دو ایک روزہ انٹرنیشنل میچوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی تھی۔ لاہور ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز میں پال ایڈمز کو گیند کرانے کے بعد شعیب اختر نے ایڈمز سے کچھ کہا تھا جس پر ایڈمز نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستانی فاسٹ بولر نے نامناسب الفاظ استعمال کئے ہیں۔ اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ شعیب اختر فیصل آباد میں ہونے والا اگلا ٹیسٹ میچ نہیں کھیل پائیں گے۔ اپیل کو مسترد کرتے ہوئے رچی بینو نے کہا کہ سترہ اکتوبر کا آئی سی سی میچ ریفری کلائیو لائیڈ کا فیصلہ بالکل درست تھا۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس لائی جانے والی اپیل کلائیو لائیڈ کے فیصلے کے متعلق تھی نہ کہ اصل جرم کے متعلق۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ کلائیو لائیڈ نے ہر طرح سے ضابطۂ اخلاق کی پیروی کی ہے کیونکہ شعیب اختر نے قبول کیا تھا کہ وہ قصور وار ہیں۔ اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین لیفٹینٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) توقیرضیاء نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا ہے کہ وہ بحیثیت میچ ریفری کلائیولائیڈ کا بہت احترام کرتے ہیں لیکن شعیب اختر کے بار ے میں ان کا تازہ ترین فیصلہ انتہائی سخت ہے۔ پہلے دن کا کھیل ختم ہونے پر میچ ریفری کلائیو لائیڈ نے شعیب اختر، پال ایڈمز اور دونوں ٹیموں کی مینجمنٹ کو طلب کرکے سماعت کی اور ہفتے کو اپنے فیصلے میں انہوں نے شعیب اختر کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے ان پر ایک ٹیسٹ اور دو ون ڈے کھیلنے کی پابندی عائد کردی ہے ۔ عام حالات میں یہ لیول ٹو کا معاملہ تھا۔ جس میں ایک ٹیسٹ یا دو ون ڈے کی سزا دی جاتی ہے لیکن چونکہ شعیب اختر ایک سال میں دوسری مرتبہ آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں لہذا انہیں لیول تین کے تحت ایک ٹیسٹ اور دو ایک روزہ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شعیب اختر پر زمبابوے کے دورے میں کلائیو لائیڈ نے ہی تماشائیوں پر غصے کے عالم میں بوتل پھینکنے کے الزام میں ایک ون ڈے کی معطلی کی سزا دی تھی جبکہ بال ٹیمپرنگ کے الزام میں انہیں تنبیہہ کی گئی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||