BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 October, 2003, 12:52 GMT 17:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان ٹیم بحرانی حالت سے دو چار ہے

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑی پوری طرح فٹ نہیں ہیں

جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم بحرانی کیفیت سے دوچار نظر آتی ہے اور ہرشخص حیران اور پریشان ہے کہ ایک ایسی ٹیم جس نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز میں کلین سویپ کیا، ایک مختلف صورتِ حال خراب کاردگی کا مظاہرہ کیوں کر رہی ہے۔

راشد لطیف کی جگہ کپتان بنائے جانے والے انضمام الحق ہمسٹرنگ کی تکلیف کے سبب پہلے ٹیسٹ سے باہر ہوگئے ہیں اور ان کی جگہ قیادت کی ذمہ داری یوسف یوحنا کو سونپ دی گئی ہے لیکن وہ بھی ہمسٹرنگ کی تکلیف سے دوچار ہیں اور اگر وہ فٹ نہ ہوئے تو پھر شعیب اختر کو قیادت سنبھالنی پڑے گی جنہیں جمعہ سے لاہور میں شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ کی اعلان کردہ 16 رکنی ٹیم میں نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے لئے اعلان کردہ ٹیم کے بارے میں مبصرین کا خیال ہے کہ یہ سلیکشن، کمیٹی کے سابقہ دعوؤں کے برعکس ہے۔ محمد حفیظ نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں سنچری اور نصف سنچری سکور کی تھی لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز کی مایوس کن کارکردگی کو جواز بناکر انہیں ٹیسٹ سیریز سے باہر کردیا گیا۔

یونس خان بھی ون ڈے سیریز کی کارکردگی کی بنیاد پر ٹیسٹ سیریز میں نظرانداز کردیئے گئے ہیں حالانکہ انضمام الحق کے نہ ہونے اور یوسف یوحنا کی مشکوک فٹنس کو دیکھتے ہوئے یونس خان جیسے تجربہ کار بیٹسمین کا ٹیم میں ہونا ضروری تھا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے منیجر ہارون رشید کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے بعد ٹیم کی تشکیل نو کے عمل میں جو کھلاڑی ابھر کرسامنے آئے ہیں ان میں ایک یاسر حمید اور دوسرے عمر گل ہیں لیکن یہی عمر گل جنہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں 15 وکٹیں حاصل کی تھیں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ کے ممکنہ کھلاڑیوں میں اسی وقت شامل ہوسکیں گے اگر لیگ سپنر مشتاق احمد کھیلنے کے قابل نہ ہوسکے۔

شیعب اختر
شیعب اختر کے خلاف ایک مقدمہ دائر ہوا ہے کہ انہوں نے شبِ برات ایک فیشن شو میں شرکت کرکے قوم کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا

آل راؤنڈر عبدالرزاق اور آف سپنر ثقلین مشتاق بھی سلیکٹرز کا اعتماد حاصل نہیں کرسکے ہیں۔ وکٹ کیپر معین خان ڈھائی سال بعدایک بار پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جنہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے بڑوں سے اختلافات کی وجہ سے نہ صرف قیادت سے ہاتھ دھونے پڑے تھے بلکہ ٹیم سے بھی باہر ہونا پڑا تھا۔

لیکن راشد لطیف کے ٹیسٹ نہ کھیلنے کی صورت میں ان کی قسمت جاگ اٹھی ہے وہ ٹیم سے باہر ہونے کے بعد سے باقاعدگی سے فرسٹ کلاس کرکٹ میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ اس دوران ان کی بیٹنگ پرفارمنس بہت عمدہ رہی ہے وہ اپنی واپسی کے سلسلے میں بہت پرامید تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے بھی اپنے حالیہ بیان میں یہ کہا تھا کہ اسوقت پاکستان کے پاس راشد لطیف اور معین خان ہی دو تجربہ کار وکٹ کیپرز ہیں۔ معین خان کو واپس بلانے کے ساتھ ساتھ کامران اکمل کو بھی سکواڈ میں رکھنا حیران کن فیصلہ ہے جو ابھی تک کوئی غیرمعمولی کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

اوپنر عمرفرحت بھی سلیکٹرز کی ’گڈ بکس‘ میں آگئے ہیں۔ وہ آخری بار آسٹریلیا کے خلاف شارجہ میں کھیلے تھے۔

ممکنہ کھلاڑیوں میں صرف ایک نئے کرکٹر عاصم کمال شامل کئے گئے ہیں۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بیٹسمین عاصم کمال 1997 میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں آنے کے بعد سے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 40 کی اوسط سے 2613 رنز اسکور کئے ہیں جن میں 8 سنچریاں بھی شامل ہیں۔ پاکستان اکیڈمی ٹیم کی طرف سے جنوبی افریقہ کے حالیہ دورے میں بھی انہوں نے متاثرکن پرفارمنس دی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد