سلو اوور ریٹ اور شعیب کی بولنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے طوفانی رفتار والے بولر شعیب اختر ایک بار پھر شہ سرخیوں میں ہیں ۔ بھارتی میڈیا میں چند ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں شعیب اختر کے بولنگ ایکشن کو مشکوک بتایا جارہا ہے۔ شعیب اختر کے بولنگ ایکشن کو بنیاد بناکر، اس سے پہلے کہ کوئی نیا تنازعہ اٹھ کھڑا ہو، پاکستان کرکٹ ٹیم کے منیجر ہارون رشید نے اس بحث کو یہ کہہ کر ختم کرنے کی کوشش کی ہے کہ شعیب اختر کے بولنگ ایکشن میں کوئی خرابی نہیں۔ آئی سی سی انہیں کلیئر کرچکی ہے اس بار ے میں اب کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیئے ۔ بھارتی کپتان سورو گنگولی سے بھی پشاور میں اس بارے میں سوال کیا گیا جس پر انہوں نے کہا کہ شعیب اختر کے بولنگ ایکشن پر انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ حالانکہ پنڈی میں جب ان سے شعیب اختر کے بولنگ ایکشن کے بارے میں سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے براہ راست جواب دینے کے بجائے معنی خیز انداز میں کہا تھا کہ آپ بھی تو سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔
شعیب اختر کا بولنگ ایکشن وجہ تنازعہ بنے یا نہیں لیکن سلو اوور ریٹ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے جس کا خمیازہ کپتان انضمام الحق کو بھگتنا پڑا ہے اور مستقبل قریب میں اس کا اعادہ انہیں کچھ میچوں کی پابندی سےبھی دوچار کرسکتاہے۔ پاکستان کے تیزبولرز کو جو لمبے رن اپ کے ساتھ نہ صرف بولنگ کررہے ہیں بلکہ ایکسٹرا رنز کی شاہ خرچیوں میں بھی پڑے ہوئے ہیں ان باتوں سے بچنا ہوگا ۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے منیجر ہارون رشید کے خیال میں سلو اوور ریٹ میں صرف ان کے بولرز ہی قصور وار نہیں ہیں بلکہ بھاری بھرکم اسکورنگ اور گیند کے باؤنڈری کے باہر تواتر کے ساتھ جانے کی وجہ سے بھی وقت ضائع ہوا ہے۔ دونوں میچوں میں پاکستان کو بڑے اسکور تک پہنچانے میں عبدالرزاق کی آخری اوورز میں دھواں دھار بیٹنگ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان عمران خان کا خیال ہے کہ انہیں یونس خان اور معین خان سے پہلے بیٹنگ کے لئے بھیجنا چاہئے تھا لیکن انضمام الحق ان سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عبدالرزاق کو جتنے اوورز کم ملیں وہ ان میں زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔ ارباب نیاز اسٹیڈیم کی وکٹ بھی پچھلے میچوں سے مختلف نہیں۔ اسٹیڈیم میں سخت حفاظتی انتظامات نظر آرہے ہیں۔ تین ہزار پولیس جوان میچ کے دن تعینات کئے گئے ہیں۔ یہ تمام پولیس والے پشاور سے باہر واقع علاقوں سے آئے ہیں۔ اسٹیڈیم کے قریب واقع افغان بستی میں رہنے والے افغان مہاجرین کو اسٹیڈیم کے علاقے میں آنے سے روک دیا گیا ہے لیکن صورتحال بہت پرسکون نظرآتی ہے۔ اور اس شہر کے بارے میں جو منفی تاثر دورے سے پہلے سامنے لایا گیا تھا خود بھارتی صحافیوں نے اس کی نفی اس طرح کردی ہے کہ وہ نہ صرف شہر کے بعض یادگار مقامات کی سیر کو گئے ہیں بلکہ کچھ نے ہوم ڈپارٹمنٹ سے اجازت لے کر باب خیبر کی بھی سیر کی ہے اور انہیں سکیورٹی کے ضمن میں کوئی غیرمعمولی یا باعث تشویش چیز نظر نہیں آئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||