| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
شعیب اختر پھر زیِر عتاب
پاکستان کرکٹ ٹیم کے طوفانی فاسٹ بولر شعیب اختر پر آئی سی سی میچ ریفری کلائیو لائیڈ نے جنوبی افریقہ کے پال ایڈمز کے خلاف نامناسب الفاظ استعمال کرنے پر ایک ٹیسٹ اور دو ایک روزہ انٹرنیشنل میچوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی ہے۔ لاہور ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز میں پال ایڈمز کو گیند کرانے کے بعد شعیب اختر نے ایڈمز سے کچھ کہا تھا جس پر ایڈمز نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستانی فاسٹ بولر نے نامناسب الفاظ استعمال کئے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے فاسٹ بولر شعیب اختر پر ایک ٹیسٹ اور دو ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی پابندی کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین لیفٹینٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) توقیرضیاء نے بی بی سی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ بحیثیت میچ ریفری کلائیولائیڈ کا بہت احترام کرتے ہیں لیکن شعیب اختر کے بار ے میں ان کا تازہ ترین فیصلہ انتہائی سخت ہے۔ یقیناً پاکستان کرکٹ بورڈ اس فیصلے کے خلاف آئی سی سی سے اپیل کرے گا۔ قوانین کے تحت پابندی کے فیصلے کے خلاف چوبیس گھنٹے میں اپیل کی جاسکتی ہے۔
توقیر ضیاء نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ اس فیصلے کے ذریعے اینڈریو ہال اور گریم اسمتھ پر پابندی کو برابر کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ میچ ریفری کلائیو لائیڈ کی اب تک کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے تاہم یہ فیصلہ بہت سخت ہے۔ انہوں نے اس بات کو خارج از امکان قرار دے دیا کہ یہ فیصلہ امتیازی سلوک کا نتیجہ ہے ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ آندرے نیل کے اشتعال انگیز رویئے کا معاملہ بھی اٹھائے گا جو اس دورے میں مستقل پاکستانی بیٹسمینوں پر فقرے کس رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ آئی سی سی کے اجلاس میں امپائرنگ کے موجودہ پست معیار کا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا پہلے دن کا کھیل ختم ہونے پر میچ ریفری کلائیو لائیڈ نے شعیب اختر، پال ایڈمز اور دونوں ٹیموں کی مینجمنٹ کو طلب کرکے سماعت کی اور ہفتے کو اپنے فیصلے میں انہوں نے شعیب اختر کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے ان پر ایک ٹیسٹ اور دو ون ڈے کھیلنے کی پابندی عائد کردی ہے ۔ عام حالات میں یہ لیول ٹو کا معاملہ تھا۔ جس میں ایک ٹیسٹ یا دو ون ڈے کی سزا دی جاتی ہے لیکن چونکہ شعیب اختر ایک سال میں دوسری مرتبہ آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں لہذا انہیں لیول تین کے تحت ایک ٹیسٹ اور دو ایک روزہ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جنوبی افریقہ کے خلاف فیصل آباد ٹیسٹ اور نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے دو ایک روزہ نہیں کھیل سکیں گے۔ شعیب اختر پر زمبابوے کے دورے میں کلائیو لائیڈ نے ہی تماشائیوں میں غصے کے عالم میں بوتل پھینکنے کے الزام میں ایک ون ڈے کی معطلی کی سزا دی تھی جبکہ بال ٹمپرنگ کے الزام میں انہیں تنبیہہ کی گئی تھی۔ اس سال مئی میں دمبولا میں ہونے والی سہ فریقی ایک روزہ میچوں کی سیریز میں بال ٹیمپرنگ کے الزام میں میچ ریفری گنڈاپا وشواناتھ نے ان پر دو ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے کی پابندی عائد کردی تھی۔ مختلف تنازعات میں ملوث شعیب اختر کو اسوقت ایک عدالتی مقدمے کا بھی سامنا ہے جو ایک شہری نے شب برات میں ان کی ایک فیشن شو میں شرکت کے خلاف دائر کررکھا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||