انضمام شعیب پر برس پڑے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے بھارت کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ میں اننگز اور ایک سو اکتیس رنز کی شکست کے بعد فاسٹ بولر شعیب اختر کی پرفارمنس اور رویئے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ سے کہا ہے کہ وہ صرف انہی کھلاڑیوں کو فوقیت دے جو ملک کے لئے کھیلنا چاہتے ہیں کیونکہ کرکٹرز کو پاکستان کی ضرورت ہے پاکستان کو کرکٹرز کی ضرورت نہیں ہے ۔ راولپنڈی ٹیسٹ کے اختتام پر پہلے پریس کانفرنس اور پھر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر بھارتی ٹیم اس سے قبل کبھی ٹیسٹ سیریز نہیں جیتی تھی آج وہ خود کو بہت دکھی محسوس کررہے ہیں۔ یہ ایک انتہائی اہم سیریز تھی جسے ہارنے پر لفظ افسوس بہت چھوٹا محسوس ہوتا ہے ۔ اس سوال پر کہ سیریز سے قبل یہ کہا جارہا تھا کہ یہ پاکستانی بولنگ اور بھارتی بیٹنگ کا مقابلہ ہے تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی بولنگ بری طرح ناکام ہوگئی؟
انضمام الحق یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ بیٹنگ نے بھی مایوس کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتی بیٹنگ دنیا کی سب سے مضبوط بیٹنگ سمجھی جاتی ہے لیکن لاہور ٹیسٹ میں وہ بھی پریشر میں آگئی ۔ اگر بولرز ہی کچھ نہ کریں اور اسکوربورڈ پر بڑا اسکور لگ جائے تو بیٹسمینوں پر دباؤ آجاتا ہے انضمام الحق کا کہنا ہے کہ پنڈی ٹیسٹ کے تیسرے دن شعیب اختر کا میدان سے باہر چلاجانا ٹیم کے لئے مہنگا ثابت ہوا۔ اہم بولر میدان سے چلا جائے تو اس سے ٹیم دباؤ میں آجاتی ہے ان کے پاس صرف محمد سمیع اور فضل اکبر بچے تھے چنانچہ انہیں نان ریگولر بولرسے گیندیں کرانی پڑیں انضمام الحق اس بات پر سخت حیران ہیں کہ شعیب اختر نے ہاتھ اور پھر کمر کی تکلیف کی شکایت کی بولنگ نہیں کی لیکن بیٹنگ کرڈالی وہ کہتے ہیں کہ جس طرح اس نے بیٹنگ کی اگر ان کی کمر اور ہاتھ میں تکلیف ہو تو وہ اس طرح بیٹنگ نہ کرسکیں۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ وہ کسی کھلاڑی کو کسی سابق کھلاڑی کو فون کرنے سے نہیں روک سکتے شعیب اختر کا جو رویہ رہا وہ سب نے راولپنڈی ٹیسٹ میں دیکھ لیا۔ ’جہاں تک ڈاکٹر توصیف رزاق کے اس بیان کا تعلق ہے کہ فاسٹ بولرز نیٹ میں زیادہ پریکٹس کرانے کے نتیجے میں ان فٹ ہوئے ہیں تو یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ایک طرف یہ کہاجارہا ہے کہ بولرز بڑی تعداد میں نوبال اور وائیڈ بال کررہے ہیں تو اس خامی کو نیٹ پریکٹس میں ہی دور کیا جاسکتا ہے۔ ایسا ممکن نہیں ہے اگر کوئی بولر کارکردگی نہ دکھارہا ہو وہ کمرے میں جاکر سوجائے اور اگلے دن اچھی کارکردگی کی توقع کرے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||