فائنل ٹیسٹ، پاکستان پریشان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ون ڈے سیریز کے بعد ٹیسٹ سیریز بھی فیصلے کے لئے آخری میچ کی منتظر ہے۔ راولپنڈی میں ہونے والے تیسرے ٹیسٹ کو جو پاکستان اور بھارت کےدرمیان ہونے والا گولڈن جوبلی ٹیسٹ بھی ہے دونوں کپتان سورو گنگولی اور انضمام الحق خاص نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ سوروگنگولی کمر کی تکلیف کی وجہ سے ملتان اور لاہور ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے۔ ٹیم میں واپسی کو وہ اپنے اور بھارتی ٹیم کے لئے یادگار بنانے کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے اس ٹیسٹ میں اجیت اگرکار کی جگہ اشیش نہرا کو کھلانے کا فیصلہ کیا ہے جو ہاتھ زخمی ہوجانےکے سبب ملتان اور لاہور میں نہیں کھیل سکے تھے، مگر اب مکمل طور پر فٹ ہوگئے ہیں۔ گنگولی کی واپسی کے نتیجے میں آکاش چوپڑہ کو ٹیم سے باہر ہونا پڑا ہے کیونکہ گنگولی کی غیرموجودگی میں ٹیم میں شامل کئے جانے والے یوراج سنگھ ملتان میں نصف سنچری اور لاہور میں شاندار سنچری سے باہر ہونے کے تمام راستے بند کرچکے ہیں۔ توقع ہے کہ سہواگ کے ساتھ گنگولی یا یوراج سنگھ اننگز کا آغاز کرینگے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو بھارتی کیمپ میں کوئی پریشانی دکھائی نہیں دیتی لیکن پاکستان کیمپ میں پریشانی کے آثار موجود ہیں۔ لاہور ٹیسٹ کے ہیرو عمرگل کے ان فٹ ہوجانے کے سبب پنڈی ٹیسٹ سے باہر ہوجانے کے بعد اب انضمام الحق کو محمد سمیع کی فٹنس نے بھی فکر میں مبتلا کررکھا ہے۔ وہ کمر کی تکلیف سے دوچار ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان ٹیم منیجمنٹ میچ سے ایک دن پہلے بھی ممکنہ 17 کھلاڑیوں میں صرف ایک عبدالرؤف کو کم کرسکی ہے اور میچ کی صبح یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ محمد سمیع کے نہ کھیلنے کی صورت میں رانا نوید الحسن اور راؤ افتخار میں سے کسے ٹیسٹ کیپ دی جائے۔ عمرگل کی جگہ فضل اکبر کا کھیلنا یقینی ہے۔ راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کی وکٹ پر موجود گھاس سے عام تاثر یہ بن رہا ہے کہ اس پر فاسٹ بولرز کو بڑی مدد ملے گی لیکن بھارتی کپتان گنگولی کا کہنا ہے کہ تیز دھوپ کی وجہ سے گھاس جل رہی ہے اور پہلے دن وہ تیز بولرز کو مدد دے گی جس کے بعد بیٹنگ کے لئے آسان ہوجائے گی۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ یہ وکٹ ایسی ہے جس پر ٹاس جیت کر پہلے بولرز کو موقع دیا جائے گا۔ پاکستان ٹیم کو اپنے تیزرفتار بولر شعیب اخترسے بڑی توقعات وابستہ ہیں جو ابھی تک اس دورے میں غیرمعمولی پرفارمنس نہیں دے سکے ہیں اور دو ٹیسٹ میچوں میں صرف چار وکٹیں حاصل کرپائے ہیں۔ لیکن یہ امید ہر وقت زندہ رہتی ہے کہ وہ کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||