پاک،بھارت گولڈن جوبلی ٹیسٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کی تاریخ پچاس ٹیسٹ میچ مکمل کرنے والی ہے ۔ دونوں ملکوں میں اب تک ہونے والے اننچاس ٹیسٹ میچوں میں سے پاکستان نے دس اور بھارت نے چھ میچوں میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ تینتیس میچ ڈرا ہوئے ہیں۔ منگل سے راولپنڈی میں شروع ہونے والا موجودہ سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ دونوں ملکوں کے درمیان کھیلا جانے والا گولڈن جوبلی ٹیسٹ ہے ۔ پاکستان نے ٹیسٹ رکنیت حاصل کرنے کے بعد سب سے پہلے بھارت کا دورہ کیا تھا اور پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلی تھی۔ پاکستان ٹیم کے کپتان عبدالحفیظ کاردار تھے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلا ٹیسٹ اکتوبر سن انیس سو باون میں دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ میں کھیلا گیا تھا جس میں بھارتی ٹیم نے جس کے کپتان لالہ امرناتھ تھے اننگز اور ستّر رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ پاکستان نے اگلے ہی ٹیسٹ میں جو لکھنؤ میں کھیلا گیا تھا اننگز اورتینتالیس رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ بھارت نے ممبئی میں سیریز کا تیسرا ٹیسٹ دس وکٹوں سے جیت کر فیصلہ کن برتری حاصل کی تھی۔ سیریز کے بقیہ دو ٹیسٹ برابر رہےتھے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے اتار چڑھاؤ کا اثر اگر کسی کھیل پر پڑا تو وہ کرکٹ ہے۔ دو جنگوں کے بعد تعلقات بحال ہونے اور کرکٹ کے میدان شائقین سے بھرنے میں سترہ سال لگ گئے۔ پاکستان اور بھارت کے دوران موجودہ دورے نے پندرہ سال کا جمود توڑا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان گولڈن جوبلی ٹیسٹ کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے کوئی خصوصی پروگرام ترتیب نہیں دیا۔ ویسے بھی بورڈ سابق ٹیسٹ کرکٹرز کو نظرانداز کرنے کے بعد معذرت کے باوجود اب بھی ان سابق کھلاڑیوں سے خوش نہیں لگتا جنہیں اس نے لاہور کے ون ڈے میچوں کے موقع پر پانچ سو روپے والے ٹکٹ دو دو سو روپے میں دے کر یہ سمجھ لیا تھا کہ ان کی خدمات کا یہ کافی اعتراف ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے گولڈن جوبلی ٹیسٹ کے موقع پر صرف موجودہ کرکٹرز کو یادگاری نشان دینے کا فیصلہ کیا ہے البتہ وہ کراچی سے لٹل ماسٹر حنیف محمد کو راولپنڈی بلاکر اس ٹیسٹ میں ان کی عزت افزائی کا ارادہ رکھتا ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||