BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 April, 2004, 19:42 GMT 00:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرکٹ اور سیاست

کرکٹ اور سیاست
بی جے پی کے لیڈر اس دورے کو حکومت کی بین الاقوامی پالیسی کی کامیابی کا نتیجہ بتا رہے ہیں
کرکٹ اور سیاست کی جوڑی آج کل ہندوستان کی انتخابی مہم میں غضب ڈھا رہی ہے۔ حال تک پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کی بات پر ’نا نا‘ کرنے والی حکمران نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) آج کل ہندوستانی ٹیم کی پاکستان میں کامیابی پر شعیب اختر کے باؤنسر سے بھی اونچی اور تیز اچھال لگا رہی ہے۔

کانگریس پارٹی بھی بھارتی ٹیم کی کامیابی سے مستفیض ہونے کے لئے سرگرم ہے۔ لیکن فی الوقت اس کی سکورنگ ذرا دھیمی معلوم ہوتی ہے۔ اپنے بلے بازوں کے چوکے چھکے اور گیند بازوں کے ذریعے گرنے والے وکٹ، بھارتی سیاست دانوں کو اہم لگنے لگے ہیں۔ ایک ایک میچ میں کامیابی انتخابی حلقہ میں جیت کے برابر معلوم ہو رہی ہے اور سیریز جیتنے کا مطلب اکثریت حاصل کرنے جیسا لگ رہا ہے۔

 اپنے بلے بازوں کے چوکے چھکے اور گیند بازوں کے ذریعے گرنے والے وکٹ، بھارتی سیاست دانوں کو اہم لگنے لگے ہیں۔

ان احساسات کی حقیقت کا اندازہ تو تیرہ مئی کو پالیمانی انتحابات کے نتائج آنے کے بعد ہو سکے گا، فی الوقت بی جے پی بھارتی ٹیم کی جیت کو مہم جوئی کا حصہ بنانے میں اول نظر آ رہی ہے۔ ہندوستان کے ایک معروف انگریزی روزنامے نے بی جے پی کی اس کوشش پر ’لیگ بیفور وکٹ‘ کی طرز پر ’پول بیفور وکٹ‘ کی دلچسپ سرخی لگائی۔ اس خبر کے مطابق لاہور کے فیصلہ کن ون ڈے میں بھارت کی کامیابی کو بی جے پی اپنی انتخابی مہم کا اہم حصہ بنا چکی ہے۔

’فیل گڈ‘ کرکٹ

رپورٹ کے مطابق یہ اشتہار وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے اپنی لے پالک بیٹی، داماد اور نواسی کے ساتھ میچ دیکھنے کے دوران چار گھنٹے کی فلمسازی کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ اس اشتہار میں مسٹر واجپئی یہ پیغام دیتے ہوئے نظرآئیں گے کہ جب بھارت کے گیارہ کھلاڑی اتنی بڑی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ سو کروڑ ہندوستانی جو چاہیں وہ انہیں نہ ملے۔

درحقیقت بھارتی ٹیم کے پاکستان دورے کا سیاسی استعمال سیریز شروع ہونے سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔ بی جے پی کے لیڈر اس دورے کو حکومت کی بین الاقوامی پالیسی کی کامیابی کا نتیجہ بتا رہے ہیں۔ بھارت نے چوبیس مارچ کو جب سیمسنگ کپ جیتا تو صحافیوں نے مسٹر واجپئی سے سوال کیا کہ کیا اس جیت نے ’فیل گڈ‘ مہم کو دوبالا کر دیا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ یہ سوال انہیں اچھا احساس دلاتا ہے۔ بی جے پی نے اس ’فیل گڈ‘ فیکٹر کو اپنی انتخابی مہم کا خاص حصہ بنا رکھا ہے۔ اس جیت کے بعد ایک روزنامے نے مسٹر واجپئی کے بیان پر سرخی لگائی ’کل گولہ باری تھی آج کرکٹ ہے‘۔ اس خبر میں میں مسٹر واجپئی کو یہ کہتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنا تعلقات بہتر بنانے کے عمل کا حصہ ہے۔ نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی بھی بھارتی ٹیم کے پاکستان دورے کو حکمران جماعت این ڈی اے کی اہم کامیابی بتاتے ہیں۔

کرکٹ اور سیاست
سہواگ کےگھر سابق وزیراعلی کی مبارک کے لئے آمد

ہندوستان کی ٹیم نے جب تیرہ مارچ کو جب پہلے ون ڈے میں کامیابی حاصل کی تو کانگریس اور بی جے پی میں میں ایک دلچسپ ایس ایم ایس جنگ دیکھنے کو ملی۔ کانگریس نے بےشمار ایس ایم ایس کے ذریعےبھارت کی کامیابی پر پیغام دیتے ہوئے کہا:

’ بھارت کو کامیابی کی امید تھی، راہول اور پرینکا ٹیم کے ساتھ تھے‘۔

واضح رہے کانگریس کی قائد سونیا گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی اور بیٹی پرینکا اور داماد رابرٹ وڈرا میچ دیکھنے کے لئے کراچی گئے ہوئے تھے۔ میڈیا میں بھارت کی جیت کے بعد پرینکا کو خوشی میں جھومتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

بی جے پی کا پیغام تھا:

’کھیل بھی جیتا دل بھی جیتا۔ شاباش انڈیا‘

وزیراعظم واجپئی کے انتخابی حلقے لکھنؤ میں بھی ایک دلچسپ ایس ایم ایس پیغام ملا۔ اس میں کہا گیا تھا، ’ کھیلیں گے اور لمبی باری۔ سورو، سچن اور اٹل بہاری‘ اسی طرح سورو، سچن کی جگہ کیف، عرفان اور اٹل بہاری کا پیغام بھی دیا گیا۔

 درحقیقت بھارتی ٹیم کے پاکستان دورے کا سیاسی استعمال سیریز شروع ہونے سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔

بھارتی ٹیم کی کامیابی نے گجرات میں مسلم کش فسادات کے لئے بدنام وزیراعلٰی مسٹر نریندر مودی کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ ایک مولوی کے گھر فون کریں۔ ایک خبر کے مطابق مسٹر مودی نے گجرات کے رہنے والے عرفان پٹھان کے والد کے گھر فون کر کے انہیں مبارک دی۔

مبارک باد دینے والوں کی فہرست میں ایک اور مشہور نام مرکزی وزیر محنت مسٹر صاب سنگھ ورما کا ہے۔ بی جے پی کے رہنما مسٹر ورما بھارت کی طرف سے پہلی ٹرپل سینچری بنانے والے وریندر سہواگ کے گھر لڈو لے کر پہنچ گئے۔ آخر مسٹر ورما کو بھی کرکٹ کی بدولت ٹی وی پر آنے کا موقع مل گیا۔ ’نجف گھر کے تیندولکر‘ کے نام سے مشہور سہواگ کے گھر والے سابق وزیر اعلٰی کو اپنے گھر دیکھ کر بے حد خوش ہوئے۔ کل بی جے پی اگر یہ نعرہ بلند کرے کہ ’جیسے سہواگ نے بنائی ہے ٹرپل سینچری، ویسے ہی این ڈی اے بنائے گی سیٹوں کی ٹرپل سینچری‘ تو اس پر کسی کو تعجب نہیں ہوا چاہئے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد