انڈیا کی تاریخی جیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا اور پاکستان کے درمیان ملتان میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں انڈیا نے پاکستان کو میچ کے آخری دن ایک اننگز اور باون رن سے شکست دے دی ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے تیسرے دن اپنے بیٹسمینوں کی مزاحمت کو حیران کن طور پر اطمینان بخش کارکردگی قرار دیا تھا لیکن حقیقت اب کچھ اور ہی نکلی ہے۔ چوتھے دن فالو آن سے بچنے میں بری طرح ناکامی کے بعد میزبان بیٹسمینوں کی اننگز کی ہزیمت سے بچنے کی تگ ودو بھی دم توڑ چکی ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم 207 رنز پر پانچواں دن شروع کرے گی تو بھارت کو تاریخی جیت کے لئے صرف ایک وکٹ درکار ہوگی ۔ پاکستان کی سر زمین پر کھیلے گئے 20 ٹیسٹ میچوں میں بھارتی ٹیم 5 ٹیسٹ ہار چکی ہے اور 15 ڈرا ہوئے ہیں اور وہ ابھی تک پہلی جیت کے انتظار میں تھی۔ یہ لمحہ اب بالکل قریب آگیا ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان ٹیم نے پہلا ٹیسٹ اسی وقت گنوادیا تھا جب بیٹسمینوں کے اندر کے خوف نے کپتان اور کوچ کوایک ایسی وکٹ بنانے پر مجبور کردیا جس پر شعیب اختر محمد سمیع اور شبیراحمد تماشا بنا دیئے گئے۔ لیکن یہ بات نہیں بھولنی چاہیئے کہ جس وکٹ پر شعیب اختر کچھ نہ کرسکے اس پر بھارتی بولرز خصوصا عرفان پٹھان نے درست لینتھ اور لائن کے ساتھ بولنگ کرکے پاکستانی بیٹسمینوں کو سکون کا سانس نہیں لینے دیا اور جب دوسری اننگز آئی تو انیل کمبلے کا جادو سرچڑھ کر بولا۔ چوتھے دن پاکستان نے پہلی اننگز شروع کی تو اسے فالوآن سے بچنے کے لئے 112 رنز درکار تھے۔ تاہم تباہی کا سلسلہ پہلی ہی گیند پر شروع ہوگیا جب عرفان پٹھان نے عبدالرزاق کو پارتھی پٹیل کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔ یہ ایسی گیند تھی جس پر عبدالرزاق کے لئے اپنے آپ کو بچانا ناممکن ہوگیا اور اس کے بعد پاکستان ٹیم کی بساط 407 رنز پر لپیٹ دی گئی ۔ثقلین مشتاق پچھلے کئی مواقعوں کی طرح غیرذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے کیچ آؤٹ ہوئے۔ شعیب اختر سچن کو انہی کی گیند پر آسان کیچ تھماگئے۔ شبیر احمد اور محمد سمیع کی آخری وکٹ کی شراکت کمبلے نے سمیع کو بولڈ کرکے ختم کی۔ عرفان پٹھان نے پاکستانی بولرز کے لئے سبق آموز کارکردگی دکھاتے ہوئے 100 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں جو ان کے تیسرے ٹیسٹ میں بہترین انفرادی بولنگ بھی ہے۔ بھارت کے خلاف تیسری مرتبہ فالوآن پر مجبور ہونے کے بعد بھی پاکستان کی مشکلات کم نہیں ہوئیں ۔بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے دونوں اوپنرز ایک بار پھر ٹیم کو اچھا آغاز نہ دے سکے ۔ عمران فرحت نے کمبلے کی گیندوں پر بلاوجہ جارحیت دکھائی جس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ۔توفیق عمر بھی کمبلے کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ پاکستان ٹیم کی بنیادیں اسوقت بری طرح ہل کر رہ گئیں جب کپتان انضمام الحق یوراج سنگھ کی براہ راست تھرو پر رن آؤٹ ہوگئے۔ پہلی اننگز میں 91 رنز بنانے والے یاسرحمید سے اس مرتبہ بڑے اسکور کی توقع پوری نہ ہوسکی اور یوراج نے انہیں سہواگ کے ہاتھوں کیچ کرا کر پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کرڈالی۔
عبدالرزاق دن میں دوسری مرتبہ آؤٹ ہوئے۔ اس مرتبہ کمبلے کی گیند پر فارورڈ شارٹ لیگ پر چوپڑہ نے ان کا خوبصورت کیچ لیا۔ معین خان عرفان پٹھان کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہونے پر امپائر سائمن ٹافل پر اپنے جذبات نہ روک سکے جس پر ایسا لگتا ہے کہ انہیں سزا یا سرزنش کا سامنا کرنا پڑے گا۔ محمد سمیع اور ثقلین مشتاق کمبلے کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے تو شعیب اختر یوسف یوحنا کے ساتھ 54 منٹ کریز پر گزارگئے۔ جس کا نتیجہ نویں وکٹ کے لئے 70 رنز کی قیمتی شراکت کی شکل میں سامنے آیا۔ یوسف یوحنا کے باصلاحیت بیٹسمین ہونے میں کوئی شک نہیں لیکن انہوں نے پہلے شعیب اختر اور پھر شبیراحمد کو بولنگ کے سامنے جس طرح ایکسپوز کیا اس سے ان کی کرکٹ کی باریکیوں کے بارے میں سمجھ بوجھ پر مبصرین حیران ہیں۔ میچ کی دونوں اننگز میں پاکستانی بیٹسمین عجلت پسندی اور بیزاری کے عالم میں بیٹنگ کرتے نظر آئے اور وکٹ پر ٹھہر کر ذمہ داری کے احساس کا فقدان صاف دکھائی دے رہا تھا۔ جس وکٹ پر پاکستان کے پیس اور اسپن اٹیک سے بھارت کو بھاری اسکور پر آؤٹ کرنا ممکن نہ ہوسکا اسی وکٹ پر ڈسپلن سے بیٹنگ اور پھر بولنگ کرکے بھارتی ٹیم نے اپنے میزبانوں کو آؤٹ کلاس کردیا۔ وکٹ کو مورد الزام ٹھہرانے سے پہلے پاکستان ٹیم کو اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||