ترکش کے تمام تیر آزمائے جائیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انضمام الحق اور سورو گنگولی کے لئے منگل سے راولپنڈی میں شروع ہونے والا تیسرا ٹیسٹ کسی سخت امتحان سے کم نہیں۔ سیریز برابر ہونے کے بعد وہ اس فیصلہ کن ٹیسٹ میں ترکش کے تمام تیر استعمال کرتے ہوئے نتیجہ اپنے حق میں کرنے کی ہرممکن کوشش کرینگے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کے لئے حالیہ برسوں میں یہ ایک بڑا مسئلہ رہا ہے کہ وہ سیریز میں برتری حاصل کرنے کے بعد اسے برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں رہی۔ ایسا ہرارے ، بارباڈوس اور میلبرن میں ہوچکا ہے۔
بھارت نے انییس سو ترانوے میں سری لنکا کے کامیاب دورے کے بعد ملک سے باہر ٹیسٹ سیریز نہیں جیتی۔ حالیہ برسوں میں گنگولی کئی بار سیریز جیتنے کے قریب آئے ہیں لیکن دنیائے کرکٹ کی سب سے طاقتور کہلائے جانے والی بیٹنگ لائن کے ڈھیر ہونے سے ان کے سپنے بکھرتے رہے ہیں۔ راولپنڈی ٹیسٹ میں سورو گنگولی کی واپسی سے جہاں بھارتی ٹیم کو جارحانہ قیادت کا فائدہ پہنچے گا وہاں وہ اس مسئلے سے بھی دوچار ہے کہ ان کی جگہ بنانے کے لئے ڈراپ کئے جانے والے آکاش چوپڑہ کے بعد اننگز کا آغاز کون کرے گا؟
ظاہر ہے کہ اس پرفارمنس کے بعد وہ کیسے باہر بیٹھ سکتے ہیں۔ چوپڑہ میں دیر تک کریز پر ٹھہرنے کا حوصلہ ضرور ہے لیکن وہ وکٹ پر اس طویل قیام کو بڑے اسکور میں بدلنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ دونوں ٹیسٹ میں قابل ذکر پرفارمنس نہ ہونے کے بعد ان کا ڈراپ کیا جانا غیرمتوقع نہیں لیکن بھارتی ٹیم کی انتظامیہ یہ فیصلہ نہیں کرپائی ہے کہ اوپننگ کس سے کرائی جائے۔ اس ضمن میں پارتھیو پٹیل کا نام سامنے آیا ہے۔اس بات کا بھی امکان ہے کہ یوراج یا خود گنگولی سہواگ کے ساتھ اننگز کا آغاز کریں۔ فاسٹ بولر اشیش نہرا کی اجیت اگرکار کی جگہ ٹیم میں شمولیت یقینی دکھائی دیتی ہے ۔ بھارتی ٹیم اوپنروں کے مسئلے میں الجھی ہوئی ہے تو پاکستان ٹیم کو فِٹنس مسائل نے گھیر رکھا ہے ۔ لاہور ٹیسٹ کی جیت میں کلیدی کردار ادا کرنے والے عمرگل کے باہر ہوجانے کے بعد پاکستان ٹیم کے کپتان انضمام الحق اور کوچ جاوید میانداد نیٹ پریکٹس میں رانانویدالحسن ، فضلِ اکبر ، راؤ افتخار اور عبدالرؤف کی بولنگ کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ تئیس سالہ فضلِ اکبر پاکستان کی طرف سے چار ٹیسٹ کھیل چکے ہیں جن میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد دس ہے۔ کافی عرصے سے ڈومیسٹک سیزن میں شاندار بولنگ کا مظاہرہ کررہے ہیں لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کے مصداق وہ ٹیم میں مستقل جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ البتہ کسی کھلاڑی کے ان فٹ ہونے کے سبب انہیں متبادل کھلاڑی کی حیثیت سے کبھی انگلینڈ کبھی نیوزی لینڈ تو کبھی جنوبی افریقہ بھیجا جاتا رہا ہے۔ رانا نویدالحسن بھارت کے خلاف کراچی کے ون ڈے میں کھیلے تھے۔عبدالرؤف پاکستان اے ٹیم کی طرف سے جنوبی افریقہ کے دورے میں متاثر کن کارکردگی دکھاچکے ہیں اور ڈومیسٹک سیزن میں بھی ان کی پرفارمنس اچھی رہی ہے ۔ راؤ افتخار بھی اس سال ڈومیسٹک کرکٹ کی عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کی وکٹ پر گھاس ہے اور اس میں باؤنس ہونے کی بھی نوید سنائی گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستان ٹیم اپنی تیز بولنگ قوت کے بل پر بھارت کی مضبوط بیٹنگ کو قابو کرنے کی کوشش کرے گی ۔ اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ کپتان انضمام الحق فضل اکبر اور رانا نوید الحسن کو موقع دینے کے حق میں ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان ٹیم کو ایک بیٹسمین کم کرنا پڑے گا۔ بیٹنگ اور بولنگ میں توازن اسی صورت میں ممکن ہوسکے گا کہ آؤٹ آف فارم توفیق عمر کو ڈراپ کرکے یاسرحمید کو اوپنر کے طور پر کھلایا جائے۔ راولپنڈی میں آخری ٹیسٹ مارچ 2000ء میں سری لنکا کے خلاف کھیلا گیا تھا جس میں پاکستان کو دو وکٹوں سے شکست ہوئی تھی۔ اس میدان پر پاکستان نے کھیلے گئے سات میں سے تین ٹیسٹ جیتے ہیں۔ لیکن آخری دو مقابلوں میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||