BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 April, 2004, 12:08 GMT 17:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیت ہے پر جوش نہیں

شائقین
ٹیسٹ میچوں میں ایک روزہ میچوں جیسا جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا
نہ نعرے بلند ہوئے ، نہ پٹاخے چھوٹے اور نہ ہی مٹھائی تقسیم ہوئی۔ لاہور کے لوگوں نے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی ہندوستان سے جیت پر وہ جوش و خروش نہیں دکھایا جو ستّر اور اسی کی دہائی میں ایسے مواقع پر دکھایا جاتا تھا۔

توفیق عمر نے جب چوکا لگایا اور پاکستان کی اپنے روایتی حریف پر نو وکٹ سے فتح ہوگئی تو قذافی اسٹیڈیم میں پاکستانی تماشائیوں کا ایک ننھا منا سا ہجوم تھا جس نے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا۔ باہر سڑکوں اور گلیوں میں کاروبار زندگی معمول کے مطابق چل رہا تھا۔

جمعرات کو لاہور میں موسم گرم تو تھا لیکن ہوا بھی چل رہی تھی۔ لیکن سینتیس اور چالیس ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں لوگوں نے یہی مناسب سمجھا کہ اپنے گھروں اور دفاتر میں بیٹھ کر میچ دیکھیں جس کے بارے میں کل ہی پاکستان کی بہتر کارکردگی سے ظاہر ہو رہا تھا کہ اس کا نتیجہ پاکستان کے حق میں جائے گا۔

قذافی اسٹیڈیم میں جنرل انکلوژر میں کل جن لوگوں نے چالیس کے درجۂ حرارت میں میچ دیکھا انہیں سر پر سایہ بھی میسر نہ تھا، پینے کے پانی کی عدم دستیابی تھی ، اسٹیڈیم میں سگریٹ جلانے کے لیے ماچس تک لے جانےکی پابندی ہے اور میچ ختم ہونے سے پہلے آپ انکلوژر چھوڑ نہیں سکتے۔ اگر تماشائی کم تھے تو سمجھ میں آنے والی بات ہے۔

میچ شروع ہونے سے پہلے ڈین جونز ایک ٹی وی چینل پر پچ کے قریب ایک باتھ ٹب میں بیٹھ کر شہر میں موسم کی صورتحال کے بارے میں بتا رہے تھے۔

عام طور پر ٹیسٹ میچ ایسے دنوں میں رکھے جاتے ہیں کہ میچ کے شروع میں یا آخر میں ہفتہ وار تعطیل کا دن ہو لیکن لاہور کا ٹیسٹ میچ کام کے دنوں میں رکھا گیا پیر سے لے کر جمعہ تک اور یہ جمعرات کو ہی اختتام کو پہنچ گیا۔ اس نے بھی بہت سے لوگوں کو اسٹیڈیم سے دور رکھا۔

گلبرگ کے نقی اکبر نے کہا کہ ان کا چھ سالہ بیٹا حسن ان سے بار بار کہہ رہا تھا کہ وہ اسٹیڈیم جا کر میچ دیکھنا چاہتا ہے لیکن انھیں دفتر سے چھٹی نہیں تھی اور اتنی گرمی میں وہ چھوٹے سے بچے کو میچ دکھانے کے لیے کیوں لے کر جاتے۔

پاکستان میں ٹیسٹ میچوں میں تماشائی عام طور پر اسٹیڈیم میں کم ہی جاتے ہیں لیکن اگر مقابلہ ہندوستان سے ہو تو عام طور پر گھروں ، دفتروں اور بازاروں میں دلچسپی تو رہتی ہے۔ اس بار وہ بھی کم دیکھنے میں آئی۔

بلال گنج کے سہیل رضا کا خیال ہے کہ ’اصل میں ایک روزہ میچوں کی سیریز میں پاکستان کے ہارنے کے بعد اور خاص طور پر لاہور کے دونوں ون ڈے میچ ہارنے کے بعد لوگوں کی دلچسپی ٹیسٹ کرکٹ سے بہت ہی کم ہو گئی ہے۔ ہمارے لوگ جذباتی ہیں۔‘

کچھ لوگ میچ کے بعد پُر جوش ردعمل کا اظہار نہ ہونے کو مثبت نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

گلبرگ کے ایک کمپیوٹر انجینئیر حسیب عباس کا خیال ہے کہ لوگ اب زیادہ باشعور ہوگۓ ہیں اور ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اب کرکٹ کھیلی جارہی ہے اور اسے کرکٹ ہی سمجھاجارہا ہے نہ کہ جنگ جیسا کہ پہلے ہوتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’آپ نے دیکھا کہ لوگ ہندوستان سے آئے ہوئے تماشائیوں کی طرف چاکلیٹ پھینکتے ہیں اور ہندوستانی کھلاڑیوں کے اچھے کھیل پر داد دیتے ہیں۔‘

حسیب کا خیال ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کے شائقین اس طرح جذباتی نہیں ہیں جیسے ہندوستان میں ہیں اور عالمی کرکٹ کپ میں بھی دونوں ملکوں کے مقابلوں میں ہار جیت کے بعد لوگو ں نے زیادہ جوش و خروش کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔

لاہور میں پاکستان کی فتح سے شاید پاکستانیوں میں پرجوش خوشی اور والہانہ جذبات تو سامنے نہیں آئے لیکن ایک بات ہے کہ اب راولپنڈی کا تیسرا اور آخری کرکٹ میچ ذرا دلچسپ ہوجائے گا جس سے اس وقت ایک ایک سے برابر ٹیسٹ سیریز شاید فیصلہ کن ہو جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد