BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 March, 2004, 17:48 GMT 22:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا سیریز جیت گیا

جیت کی خوشی
انڈیا کے کھلاڑی خوشیاں منا رہے ہیں
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ جاوید میانداد کو اپنے جن بیٹسمینوں پر بھرپور اعتماد تھا انہی کی مایوس کن کارکردگی نے بھارتی کرکٹ ٹیم کو پاکستان کی سرزمین پر پہلی ون ڈے سیریز جیتنے کا موقع فراہم کردیا۔

اتوار کی شب اسی قذافی اسٹیڈیم میں محمد کیف اور راہول ڈریوڈ پاکستان کے بنائے گئے 293 رنز کو عبور کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن بدھ کی شب بھارت کے 293 رنز پاکستانی بیٹسمینوں کی پہنچ سے دور رہے اور 40 رنز کی شکست سے دو ایک کی سبقت حاصل کرنے والی پاکستان ٹیم تین دو سے سیریز ہارگئی۔

شعیب ملک اور معین خان نے جس انداز کی بیٹنگ دکھائی اگر ٹاپ آرڈر بیٹنگ اس کا مظاہرہ کرتی تو صورتحال مختلف ہوتی۔

انضمام الحق سیریز میں پانچویں مرتبہ ٹاس کے معاملے میں خوش قسمت رہے اور انہوں نے ہدف دینے کے بجائے عبور کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی بولرز نے بھارتی اننگز کے 35 اوورز تک بہتر بولنگ کی لیکن آخری 15 اوورز میں بننے والے 114 رنز نے اسکور کو 293 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ تک پہنچادیا۔

وی وی ایس لکشمن پر قسمت کی دیوی مہربان رہی کہ 72 ویں ون ڈے انٹرنیشنل میں چھٹی اور پاکستان کے خلاف پہلی سنچری اسکور کرنے کے لئے وہ توفیق عمر کے ممنون تھے جنہوں نے 52 کے اسکور پر ان کا کیچ گرادیا جس کا خمیازہ پاکستان ٹیم کو بھگتنا پڑا۔

توفیق عمر نے 6 رنز پر محمد کیف کا کیچ بھی گرایا لیکن وہ زیادہ مہنگا ثابت نہ ہوا ۔ یہ لکشمن کی اننگز ہی تھی جس نے بھارت کے لئے معقول اسکور تک پہنچنے کا سامان پیدا کیا۔ سچن 37 سہواگ 20 اور گنگولی 45 رنز پر پاکستانی بولرز کے قابو میں آچکے تھے۔ پچھلے میچوں کے برعکس پاکستانی بولرز ایکسٹرا رنز پر قابو پانے میں کامیاب رہے۔ اس مرتبہ صرف سولہ رنز بھارت کے کھاتے میں گئے ۔ شعیب اختر کے دس اوورز میں کوئی نوبال یا وائیڈ شامل نہیں تھی۔

منزل تک پہنچنے کے لئے پاکستان ٹیم کو جس پراعتماد آغاز کی ضرورت تھی وہ اسے نہ مل سکا ۔ یاسر حمید کے دفاع کو بالاجی نے توڑا اور شاہد آفریدی کی جگہ پاکستان ٹیم میں شامل کئے جانے والے توفیق عمر فیلڈنگ کے بعد بیٹنگ میں بھی بے بسی کی تصویر بن گئے۔ یوسف یوحنا کی غیرمستقل مزاجی بھرپور صلاحیت ہونے کے باوجود انہیں ورلڈ کلاس بیٹسمینوں کی صف میں شامل کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ پہلے میچ میں 73 رنز کی اننگز کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان چار میچوں میں صرف 36 رنز ہی اسکور کرپائے ہیں۔ یونس خان کی حالت بھی اس سے مختلف نہیں ہے بغیر سنچری کے ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سنچری مکمل کر لینے والے یونس خان نے بھی اس سیریز میں کوئی بڑی اننگز نہیں کھیلی۔

ابتدائی صدمے کے بعد پاکستان ٹیم انضمام الحق کی طرف نگاہیں جمائے بیٹھی تھی لیکن ان کی آہستہ آہستہ استحکام پاتی ہوئی اننگز لانگ آن باؤنڈری پر سچن تندولکر کے ناقابل یقین کیچ کی نذر ہوگئی جن کا یہ ون ڈے انٹرنیشنل میں سوواں کیچ بھی تھا لیکن سب سے اہم بات یہ کہ اس کیچ نے پاکستان بیٹنگ لائن کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ اس مرحلے پر معین خان اور شعیب ملک کی مزاحمت نے بھارتی ٹیم کے لئے پریشانی کا کچھ سامان کیا جو اپنے کپتان سورو گنگولی سے محروم ہوچکی تھی۔ فیلڈنگ کرتے ہوئے انہوں نے جو ڈائیو لگائی وہ انہیں مہنگی پڑگئی اور کمر کی شدید تکلیف کے سبب انہیں اسٹریچر پر باہر لیجایا گیا جس کے بعد وہ میچ ختم ہونے پر ہی اپنے کھلاڑیوں کو مبارکباد دینے کے لئے میدان میں آسکے۔

محمد سمیع نے معین خان کا اچھا ساتھ نبھایا لیکن ان کے بولڈ ہونے کے بعد شعیب رن آؤٹ ہوکر معین خان کی مایوسی میں اضافہ کرگئے ۔معین خان باہمت انداز میں بنائے گئے 72 رنز پر آؤٹ ہونے والے آخری بیٹسمین تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد