پاک، بھارت ٹیموں کی اُلجھنیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے وِکٹ کیپر معین خان اور آل راؤنڈر عبدالرزاق راولپنڈی میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میچ کے لئے صحتیاب نہیں ہو سکے۔ یہ دونوں کھلاڑی چوٹ لگنے کے باعث دوسرے ٹیسٹ میں بھی حصہ نہیں لے سکے تھے۔ دوسرے ٹیسٹ میں معین خان کی جگہ کامران اکمل کو کھلایا گیا تھا جبکہ عبدالرزاق کی جگہ عاصم کمال نے لی تھی جنہوں نے اہم بہتر رن بنائے تھے۔ کامران اکمل نےپانچ کیچ پکڑے اور ایک سٹمپ کیا۔ دوسری طرف بھارتی ٹیم کو دورے کے آخری ٹیسٹ میں کپتان سوروو گنگولی کی متوقع واپسی کے بعد اہم تبدیلیاں کرنی پڑیں گی۔ خیال ہے کہ اوپنر آکاش چوپڑا کو اس ٹیسٹ کے لئے ٹیم سے باہر رکھا جائے گا۔ اس صورت میں گنگولی یا وی وی ایس لکشمن دوسرے اوپنر وریندر سہواگ کے ساتھ بیٹنگ کا آغاز کریں گے۔ لیکن سنیل گواسکر کی رائے ہے کہ اوپننگ وکٹ کیپر پارتھو پٹیل سے کروائی جانی چاہیے۔ انیس سالہ پارتھو کی بیٹنگ اوسط صرف انتیس اعشاریہ چھ ہے لیکن لاہور ٹیسٹ میں انہوں نے اپنے کیریر کا سب سے زیادہ باسٹھ سکور کیا تھا۔ آکاش چوپڑا نے ماضی میں لمبی اننگز کھیلی ہیں لیکن انہیں گنگولی کی واپسی کے لئے جگہ بنانی پڑے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||