ٹیسٹ میچوں کی ٹرپل سنچری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شور مچاتی ون ڈے کرکٹ کے بعد اب تمام نظریں ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح پرسکون پانچ روزہ کرکٹ پر مرکوز ہیں۔ پاکستان کا تاریخی شہر ملتان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ کا میزبان ہے۔ اس ٹیسٹ کی اہمیت اس لئے بھی ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کا پندرہ سال کے طویل اور صبرآزما انتظار کے بعد یہ پاکستانی سرزمین پر پہلا ٹیسٹ ہے۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم اپنے ٹیسٹ میچوں کی ٹرپل سنچری مکمل کر رہی ہے۔ بھارت کے سابق کپتان سنیل گواسکر کا کہنا ہے کہ ون ڈے سیریز جیتنے کے بعد بھارتی ٹیم اپنے مدمقابل پر نفسیاتی برتری کے ساتھ ٹیسٹ سیریز شروع کرے گی لیکن پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ ون ڈے اور ٹیسٹ کے مزاج میں بہت فرق ہے اس سے قبل بھی پاکستان ٹیم ون ڈے سیریز ہاری ہے لیکن اس نے ٹیسٹ میچوں میں اچھی پرفارمنس دی ہے۔ پاکستان کی سرزمین پر پہلی ون ڈے سیریز جیتنے والی بھارتی کرکٹ ٹیم کے بلند حوصلوں کو کپتان سورو گنگولی کے ان فٹ ہوجانے سے دھچکہ ضرور پہنچا ہے جو کمر کی تکلیف کے سبب پہلے ٹیسٹ سے باہر ہوگئے ہیں اور ان کی جگہ راہول ڈراوڈ ٹیم کی قیادت کریں گے جو اس سے قبل بھی نیوزی لینڈ کے خلاف موہالی ٹیسٹ میں گنگولی کے ان فٹ ہونے پر کپتانی کر چکے ہیں ۔ گنگولی کی جگہ یوراج سنگھ یہ میچ کھیلنے والے ہیں جو اب تک صرف ایک ٹیسٹ کھیلے ہیں۔ راہول ڈراوڈ کا کہنا ہے کہ یوراج سنگھ ایک باصلاحیت کرکٹر ہے جسے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا اچھا موقع ملا ہے۔ انضمام الحق، گنگولی کی غیرموجودگی سے فائدہ اٹھانے کی بات کر رہے ہیں تو راہول ڈراوڈ ان کی کمی کو محسوس نہ ہونے دیتے ہوئے ٹیسٹ سیریز کا آغاز پراعتماد انداز میں کرنے کے لئے بےتاب ہیں۔
راہول ڈراوڈ کا کہنا ہے کہ ون ڈے سیریز جیتنے کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت کو ٹیسٹ سیریز میں بھی پاکستان پر نفسیاتی برتری حاصل ہوگئی ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ ون ڈے کے مقابلے میں ٹیسٹ سیریز میں بھارتی ٹیم زیادہ متوازن کمبینیشن کے ساتھ سامنے آئے گی۔ انضمام کا کہنا ہے کہ ون ڈے سیریز ہارنے کے باوجود ان کی ٹیم کی مجموعی کارکردگی بری نہیں رہی۔ وہ اپنے بولرز سے بڑی آس لگائے ہوئے ہیں اور یہی خیالات کوچ جاوید میانداد کے بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ شعیب اختر اور محمد سمیع کسی بھی وقت کسی بھی بیٹنگ لائن کو بکھیر کر رکھ سکتے ہیں۔ بھارتی بیٹنگ کم و بیش انہی کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جو ون ڈے سیریز میں پاکستانی بولنگ پر حاوی رہی ہے لیکن جہاں تک بولنگ کا تعلق ہے انیل کمبلے اور اجیت اگرکر کی شمولیت مفید ثابت ہو گی۔ آسٹریلیا میں ان فٹ ہونے کے بعد ٹیم میں واپس آنے والے ظہیرخان اگرچہ ون ڈے سیریز میں ردھم میں نہ ہونے کے سبب تگ ودو میں مصروف رہے لیکن وہ ٹیسٹ سیریز میں بہتر کارکردگی دکھانے کے معاملے میں خاصے سنجیدہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ون ڈے میں محدود مواقع کے برعکس ٹیسٹ میچوں میں انہیں زیادہ موقع ملے گا اور وہ اپنے مسائل پر قابو پاتے ہوئے پاکستانی بیٹسمینوں پر اپنا اثر دکھانے میں کامیاب رہیں گے۔ بھارتی ٹیم پاکستانی بیٹسمینوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے انیل کمبلے کی طرف دیکھ رہی ہے۔ یہ وہی انیل کمبلے ہیں جنہوں نے پاکستان کے خلاف 1999 کے دہلی ٹیسٹ میں بھارت کی 212 رنز کی جیت کو اننگز کی تمام 10 وکٹوں کی شاندار کارکردگی سے یادگار بنادیا تھا۔ ون ڈے سیریز میں غیرمستقل مزاجی کے بعد ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی بیٹسمینوں نے اپنی روش نہ بدلی تو پاکستان ٹیم کو اس کا خمیازہ بھگتنے کے لئے تیار رہنا چاہیئے۔
عمران فرحت، توفیق عمر اور یوسف یوحنا کو ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ انضمام الحق اس خیال سے متفق نہیں کہ یوحنا اور ان کے علاوہ باقی بیٹسمین ناتجربہ کار ہیں۔ موجودہ ٹیسٹ سیریز پاکستانی بولرز خصوصاً شعیب اختر کی صلاحیت کا بھی امتحان ہے۔ ون ڈے میچوں میں سلو اوور ریٹ، ایکسٹرا رنز کی بھرمار اور وکٹوں کے حصول کے معاملے میں توقعات پوری نہ ہونے کے بعد پاکستانی بولنگ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ کپتان انضمام الحق، ثقلین مشتاق اور شعیب ملک کے مقابلے میں لیگ سپنر دانش کنیریا کو شعیب اختر، محمد سمیع اور شبیر احمد کے ساتھ موقع دینے کے موڈ میں ہیں۔ مبصرین کا خیال اس کے برعکس ہے کیونکہ وہ ثقلین مشتاق کو زیادہ بہتر چوائس سمجھتے ہیں جو بھارت کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں میں 24 وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں۔ 48 ٹیسٹ میچوں میں 207 وکٹیں حاصل کرنے والے ثقلین مشتاق بنگلہ دیش کے خلاف ملتان ٹیسٹ کے بعد سے کوئی ٹیسٹ نہیں کھیل سکے ہیں جس پر وہ اس قدر دلبرداشتہ ہوئے تھے کہ انہوں نے ان آؤٹ ہونے کی شکایت پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان سے ملاقات کر کے کی تھی۔ بھارتی کرکٹ ٹیم ملتان میں پہلی بار ٹیسٹ میچ کھیل رہی ہے۔ اس سے قبل وہ اس شہر کے قاسم باغ اسٹیڈیم میں 1982 کے دورے میں ون ڈے انٹرنیشنل کھیل چکی ہے جس میں پاکستان نے ظہیرعباس اور محسن خان کی شاندار سنچریوں کی بدولت کامیابی حاصل کی تھی۔ پاکستان نے اب تک جو 299 ٹیسٹ کھیلے ہیں ان میں 92 جیتے ہیں، 74 ہارے ہیں اور 133 ڈرا پر ختم ہوئے ہیں۔ یہ ریکارڈ بھارت سے زیادہ بہتر ہے جس نے 371 میں سے 75 ٹیسٹ جیتے ہیں اور 123 میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان نے بنگلہ دیش کے خلاف دو ٹیسٹ کھیلے ہیں اور انضمام الحق نے ان دونوں ٹیسٹ میچوں میں سنچریاں بنا کر پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ بھارت کے خلاف بھی اسی کارکردگی کو ذہن میں رکھ کر میدان میں اتریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||