انضمام حلیم اور دال چاول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملتان کےگھنٹہ گھر چوک کے پہلو میں واقع محلہ ٹویہ شاہ کے ایک مکان کے صحن میں بچے کرکٹ کھیلنے میں مصروف ہیں۔ لیکن اس شور شرابے کا گھر کے بزرگ برا نہیں مناتے بلکہ کبھی کبھی وہ بھی ان بچوں کے کھیل میں شامل ہوجاتے ہیں البتہ اذان ہوتے ہی کرکٹ رک جاتی ہے اور تمام بچے ان بزرگ کے ساتھ مسجد کا رخ کرتے ہیں اور نماز کی ادائیگی کے بعد کرکٹ دوبارہ شروع ہوجاتی ہے۔ تپتی دوپہر میں کھانے کا وقت ہوتا ہے تو اسی صحن میں، جو ان بچوں کے لئے کرکٹ سٹیڈیم کا درجہ رکھتا ہے، دسترخوان بچھا دیا جاتا ہے اور ان کرکٹرز کا لنچ عموماً حلیم یا دال چاول پر مشتمل ہوتا ہے۔ صحن میں کرکٹ اور دال چاول کے اس لنچ سے کسی اور کی نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کی حسین یادیں وابستہ ہیں اور وہ بزرگ جو کبھی کبھار بچوں کی کرکٹ میں شریک ہوجاتے ہیں انضمام الحق کے والد ہیں۔ یہی وہ مکان ہے جس میں انضمام نے آنکھیں کھولیں اور ہوش سنبھالتے ہی کرکٹ بیٹ کو تھام لیا۔ تقریباً تیس فٹ چوڑے اس صحن کی دیوار کو باؤنڈری کا درجہ حاصل تھا۔ انضمام الحق کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت بھی دیگر تمام کرکٹرز میں سب سے اچھی بیٹنگ کرتے تھے۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب انضمام الحق کی کرکٹ اس صحن سے نکل کر شہر کی کلب کرکٹ تک پہنچ گئی لیکن اس کے باوجود کمسنی کے ساتھیوں کے ساتھ ان کی صحن کرکٹ بدستور جاری رہی۔ انضمام الحق کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ عجز اور انکساری کا پیکر ہے۔ تکبر اور گھمنڈ اسے چھوکر نہیں گزرا۔ جب وہ دوسرے شہر سے ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر واپس ملتان آتا تو اسی انداز سے ملتا اور محلہ ٹویہ شاہ کی گلیوں میں چوکے چھکے کی آوازیں بلند ہونے لگتیں اور یہ سلسلہ اس مکان کے فروخت ہونے تک جاری رہا۔ ملتان شہر سے انضمام الحق کی محبت اٹوٹ ہے۔ اس شہر کے باسیوں نے بھی بھولی بھالی صورت کے مالک کرکٹر کو محبت دی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب ورلڈ کپ جیتنے کے بعد وہ ملتان آئے تھے تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کے استقبال کو پورا شہر امڈ آیا ہو۔ لاہور منتقل ہوجانے کے باوجود انضمام الحق نے ملتان سے اپنا ناتہ نہیں توڑا کیونکہ گرد گدا گور گرما کے بعد ملتان آج اگر کسی حوالے سے پہچانا جاتا ہے تو وہ انضمام الحق ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||