BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 January, 2004, 15:44 GMT 20:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انضمام الحق پورے سال کے کپتان

انضمام الحق

پاکستان کرکٹ بورڈ نے انضمام الحق کو سال 2004 ء کے لئے پاکستان کرکٹ ٹیم کا کپتان برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سال پاکستان کرکٹ ٹیم کے بین الاقوامی شیڈول میں مارچ اپریل میں بھارت کے خلاف ہوم سیریز، ستمبر میں انگلینڈ میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی، اکتوبر میں زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز اور دسمبر میں آسٹریلوی دور ے میں ٹیسٹ سیریز اور سہ فریقی ون ڈے ٹورنامنٹ شامل ہیں۔

انضمام الحق پر بحیثیت کپتان پاکستان کرکٹ بورڈ کا اعتماد اس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے کہ اب تک پاکستان کرکٹ بورڈ نے سیریز بہ سیریز کپتان مقرر کرنے کی پالیسی اپنارکھی تھی جس پر متعدد سابق کرکٹرز سمیت کرکٹ کے مقتدر حلقے خوش نہیں تھے۔

ان حلقوں کا خیال تھا کہ ٹیم کی کارکردگی میں مستقل مزاجی پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کپتان کو نہ صرف بااختیار ہونا چاہیئے بلکہ اسے طویل مدت کے لئے یہ ذمہ داری سونپی جائے تاکہ اسے اپنی حکمت عملی بنانے میں مدد مل سکے۔

ماضی قریب میں وسیم اکرم کے بعد پاکستان میں کسی بھی کپتان کو طویل مدت کے لئے کپتان مقرر نہیں کیا گیا اور خدشات کی تلوار اس کے سر پر لٹکتی رہی۔ جب ورلڈ کپ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین توقیر ضیاء نے تشکیل نو کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ورلڈ کپ کی ذلت آمیز شکست کے ذمہ دار کرکٹرز کو گھر کا راستہ دکھاتے ہوئے نئے نوجوان کرکٹرز پر مشتمل ٹیم تیار کی۔ انہوں نے کپتانی راشد لطیف کے سپرد کردی جو ورلڈ کپ کے بعد ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرچکےتھے ۔

راشد لطیف نے نئے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان ٹیم کو فتح کی راہ پر گامزن کردیا۔ پاکستان نے شارجہ کپ جیتا ، سری لنکا میں ون ڈے ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلا اور انگلینڈ میں ون ڈے سیریز میں متاثرکن کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

اس دوران پاکستان کرکٹ بورڈ نے یوٹرن لیتے ہوئے ورلڈ کپ کے ناکام کرکٹرز کو آہستہ آہستہ ٹیم میں شامل کرنا شروع کردیا۔ ہوم سیزن میں پاکستان نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتی لیکن متنازعہ کیچ نے راشد لطیف کو ون ڈے سیریز سے باہر کردیا۔

ساتھ ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ کی روایتی بے اعتباری نے بھی ایسے حالات پیدا کردیئے کہ راشد لطیف کو قیادت چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس سے قبل ورلڈ کپ کی شکست کی حقائق سے دور روایتی رپورٹ نے وقار یونس پر بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند کردیئے تھے۔

انضمام الحق راشد لطیف کی جگہ بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے سیریز میں کپتان مقرر کئے گئے تھے جو پاکستان نے پانچ صفر سے جیتی۔ جنوبی افریقہ کے خلاف وہ فٹنس مسائل سے دوچار رہے اور لاہور ٹیسٹ نہ کھیل سکے جو پاکستان نے یوسف یوحنا کی قیادت میں 8 وکٹوں سے جیتا۔

فیصل آباد ٹیسٹ میں ان کی واپسی ہوئی تاہم وہ ٹیسٹ پاکستان کی جیت کے قریب آتے ہوئے ڈرا پر ختم ہوا۔ پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز دو صفر کی برتری کے باوجود تین دو سے ہاری البتہ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے پانچوں میچ پاکستان کے نام رہے۔

نیوزی لینڈ کے حالیہ دورے میں پاکستان ٹیم دو مختلف روپ میں نظر آئی۔ ٹیسٹ سیریز جیتنے کے بعد اسے ون ڈے سیریز میں چار ایک کی خفت سے دوچار ہونا پڑا۔ انضمام الحق بحیثیت بیٹسمین چند ایک اہم اننگز کھیلنے کے باوجود تگ ودو میں نظر آئے ۔

انضمام الحق اس وقت پاکستان بیٹنگ لائن میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ، 91 ٹیسٹ میچوں میں 18 سنچریوں اور35 نصف سنچریوں کی مدد سے انہوں نے 6680 رنز بنائے ہیں۔ 307 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں 8 سنچریوں اور 68 نصف سنچریوں کی مدد سے ان کے بنائے گئے رنز کی تعداد 9456 ہے۔

عمران خان انہیں سچن ٹنڈولکر اور برائن لارا جیسی خصوصیات کا حامل بیٹسمین سمجھتے ہیں جب وہ اپنے رنگ میں ہوتے ہیں تو بولر کے لئے انہیں قابو کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایک سال کے لئے انہیں قیادت کی ذمہ داری کے لئے موزوں سمجھنا پاکستان کرکٹ بورڈ کا درست فیصلہ ہے شاید اس نے وسیم اکرم کی یہ بات سن لی اور سمجھ لی ہے کہ کسی بھی کپتان کو اعتماد دینے کے لئے ضروری ہے کہ اسے لمبے عرصے کے لئے یہ ذمہ داری سونپ دی جائے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد