لاہور ٹیسٹ:پاکستان کی گرفت مضبوط | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم ملتان کا حساب لاہور میں بے باق کرنے کے قریب آگئی ہے۔ اسے ملتان ٹیسٹ میں مایوس کن بولنگ کے بعد کی جانے والی سرزنش کہیئے یا ٹیم سے ڈراپ ہونے کا خوف ، پاکستانی بولرز چوتھے دن 202 رنز کے خسارے کے ساتھ دوسری اننگز شروع کرنے والی بھارتی ٹیم کے5 کھلاڑی 149 رنز پر آؤٹ کرکے کپتان انضمام الحق کے چہرے پر مسکراہٹ واپس لے آئے ہیں۔ پاکستانی بولرز کی عمدہ کارکردگی اپنی جگہ اہم لیکن میزبان ٹیم کو جیت کی راہ پر لانے میں بیٹنگ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ گوکہ انضمام الحق 118 اور یوسف یوحنا 72 رنز بناکر جلد آؤٹ ہوگئے تھے لیکن باہمت اور پراعتماد عاصم کمال کی 73 رنز کی شاندار اننگز نے میچ پر پاکستان کی گرفت مضبوط کردی ۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ عاصم کمال نے گزشتہ سال اسی قذافی اسٹیڈیم میں اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز 99 رنز کی شاندار بیٹنگ سے کیا تھا۔ لیکن دو ٹیسٹ میچوں میں قابل ذکر پرفارمنس کے باوجود وہ ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔ اس میچ میں انہیں عبدالرزاق کی جگہ کھیلنے کا موقع ملا جس کو انہوں نےبیٹنگ کے ایک اور خوبصورت مظاہرے سے یادگار بنادیا۔ بھارت کی طرف سے عرفان پٹھان نے ایک بار پھر بڑی عمدہ بولنگ کی اور 26 گیندوں کے سپیل میں صرف 11 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔ بالاجی بھی متاثرکن کارکردگی کے ساتھ تین وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان کی 202 رنز کی واضح برتری اس کے بولرز کا حوصلہ بڑھانے کے لئے کافی ثابت ہوئی۔ پہلا وار شعیب اختر نےچوپڑہ کی وکٹ کی صورت میں کیا یہ زخم اسوقت گہرا ہوگیا جب کپتان ڈریوڈ بغیر گیند کھیلے رن آؤٹ ہوئے اور سچن ٹنڈولکر کو محمد سمیع نے ایل بی ڈبلیو کردیا۔ شام کے سائے گہرے ہونے تک عمرگل لکشمن کی اسٹمپ اڑانے میں کامیاب ہوئے تو محمد سمیع نے پہلی اننگز کے سنچری میکر یوراج سنگھ کو کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ کرادیا۔ ملتان ٹیسٹ کے ٹرپل سنچری میکر سہواگ تین ہندسوں کی ایک اور شاندار اننگز سے صرف 14 رنز کے فاصلے پر ہیں۔ ضرورت سے زیادہ اپیلیں کرنے کی پاداش میں میچ ریفری کی جانب سے جرمانے کی زد میں آنے والے وکٹ کیپر پارتھی پٹیل 13 رنز پران کا ساتھ دے رہے ہیں۔ہونی کو انہونی میں بدلنے کے لئے بھارتی ٹیم سہواگ پر نظریں جمائے بیٹھی ہے۔ میچ کے چوتھے دن پاکستانی بولرز کو ابتدا ہی سے اٹیکنگ حکمت عملی کے ساتھ درست لائن پر گیندیں کرنی ہونگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||