تیسرا دن اور اڑسٹھ رنز کی برتری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کے روز پاکستان کے کھلاڑی انضمام الحق اور یوسف یوحنا لاہور میں بھارت کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے دن کا کھیل شروع کریں گے۔ پاکستان کو بھارت پر خلاف اڑسٹھ رنز کی سبقت حاصل ہے اور اس کی سات وکٹیں باقی ہیں۔ پاکستان کے سابق کپتان عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو اس میچ کو جیتنے کی کوشش کرنی ہے تو پھر اسے تیزی سے رنز بنانے ہوں گے۔ عمران کے خیال میں وکٹ کے سلو ہو جانے سے کھلاڑیوں کا آؤٹ ہونا قدرے مشکل ہو سکتا ہے۔ بھارت کے 287 رنز کے جواب میں پاکستان نے دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے دن کا اختتام355 رنز3 کھلاڑی آؤٹ کے اسکور پر کرکے 68 رنز کی برتری حاصل کرلی تھی۔ پہلا دن اگر عمرگل کی عمدہ بولنگ اور یوراج سنگھ کی سنچری کے نام رہا تھا تو دوسرے دن کے کھیل کو انضمام الحق اور عمران فرحت نے شاندار سنچریوں سے یادگار بنادیا۔ پاکستانی کپتان نے بھارت کے خلاف پہلی ٹیسٹ سنچری اسکور کی جبکہ عمران فرحت جو نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز اور ملتان ٹیسٹ میں ناکام رہنے کے سبب ٹیم سے ڈراپ کئے جانے کے خطرے سے دوچار تھے تین ہندسوں کی خوبصورت اننگز کھیل کر اس دباؤ سے چھٹکارہ پانے میں کامیاب ہوگئے۔ ٹیسٹ سے قبل عام خیال تھا کہ ان کی جگہ عمران نذیر کو موقع دیا جائے گا لیکن سلیکٹرز نے عمران فرحت کو ایک اور چانس دیا اور اس نوجوان بیٹسمین نے اسے ضائع نہیں ہونے دیا اور دسویں ٹیسٹ میں دوسری سنچری اسکور کی۔ انضمام الحق اور عمران فرحت کے درمیان دوسری وکٹ کی شراکت میں بننے والے 110 رنز نے پاکستان کے لئے ایک بڑے اسکور تک پہنچنے کی سمت متعین کردی تھی۔
انضمام الحق کی بھارت کے خلاف ٹیسٹ سنچری اسکور کرنے کی خواہش جو ملتان میں پوری نہ ہوسکی تھی بالآخر پوری ہوگئی اور انہوں نے کپتان کی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے بیٹنگ کی 93 ٹیسٹ میچوں میں ان کی سنچریوں کی تعداد 19 ہوگئی ہے۔ ملتان ٹیسٹ کے سنچری بنانے والے یوسف یوحنا جن کا یہ 50 واں ٹیسٹ ہے خود کو ایک بڑی اننگز کے لئے تیار کرچکے ہیں۔کھیل کے اختتام پر وہ 62 رنز پر اپنے کپتان کا ساتھ دے رہے تھے جو 118 رنز پر ناٹ آّؤٹ تھے۔ پاکستان کے نقطہ نظر سے ان دونوں تجربہ کار بیٹسمینوں کا کریز پر موجود رہنا خوش آئند ہے کہ یہ دونوں چوتھی وکٹ کی شراکت میں 150 رنز کا اضافہ کرچکے ہیں اور تیسرے دن ان کی موجودگی سے پاکستان کے لئے بھاری بھرکم برتری حاصل کرنا آسان رہے گا جو اسوقت 68 رنز کی ہوچکی ہے۔ پہلے دن کے مقابلے میں وکٹ سے بولرز کو کوئی مدد نہ مل سکی ان کی فریسٹریشن میں اسوقت اضافہ ہوگیا جب انضمام الحق اور یوسف یوحنا کے خلاف عرفان پٹھان کی ایل بی ڈبلیو کی پرزور اپیلیں امپائر اسٹیو بکنر نے مسترد کردیں اور امپائر سائمن ٹافل نےیوسف یوحنا کو انیل کمبلے کی گیند پر پارتھی پٹیل کے ہاتھوں آؤٹ نہیں دیا۔ ایکشن ری پلے میں یہ تینوں فیصلے بولرز کے حق میں دکھائی دیتے تھے۔ بھارتی کھلاڑی ضرورت سے زیادہ اپیلیں کرنے کے نتیجے میں میچ ریفری کی زد میں آسکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||