عرفان پٹھان: والدین کی دعا قبول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بڑودہ شہر کے علاقے مانڈوی گیٹ کی مسجد کے سائے میں دو بھائی کرکٹ کھیلنے میں مصروف ہیں لیکن اس بات کو بھی وہ ذہن میں رکھے ہوئے ہیں کہ مسجد کا تقدس برقرار رہے اور نمازیوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ یہ سوچ اس لئے بھی ذہن پر حاوی ہے کہ ان کے والد اس مسجد کے مؤذن بھی ہیں جن کی آواز دن میں پانچ بار فضا میں گونجتی ہے: ’حئی علی الصلوۃ‘۔ محمود خان کے دونوں بچوں یوسف اور عرفان کی دین سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر نماز سے قبل وہ مسجد میں جھاڑو لگاتے ہیں اور اس کی صفائی کرتے ہیں۔
پھر وہ وقت بھی آتا ہے جب عرفان کرکٹ کے سفر میں مانڈوی گیٹ سے نکل کر قومی دھارے میں شامل ہوجاتا ہے اور آج یہ نوجوان عرفان پٹھان کے نام سے بھارتی کرکٹ کے افق پر چھایا ہوا ہے۔ ہرماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بیٹا نیک بنے اور ترقی کرے۔ عرفان پٹھان کے والدین کی یہ دعا اللہ نے پوری کی ہے جس پران کی خوشی بجا لیکن ساتھ ہی وہ خدا کا شکر بھی بجالاتے ہیں۔ عرفان پٹھان کے والدین دوسرا ٹیسٹ دیکھنے کے لئے اسوقت لاہور میں ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ بیٹے کی کامیابی دیکھ کر کیسا لگتا ہے تو انکساری اور سادگی کے پیکر محمود خان نے کہا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالی کا دیا ہوا ہے۔ بچپن میں کرکٹ سے اس کا والہانہ لگاؤ دیکھ کر انہیں یقین تھا کہ وہ ایک دن ضرور بھارت کی طرف سے کھیلے گا اسی لئے انہوں نے اسے کرکٹ سے بالکل نہیں روکا۔ محمود خان کا کہنا ہے: ’عرفان مسجد کی صفائی کرتا اور جھاڑو لگاتا یہ اللہ کے گھر کو صاف ستھرا رکھنے کا ہی انعام ہے جو اسے ملا ہے۔‘ محمود خان کے والد اور نانا بھی مؤذن تھے۔ وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ عرفان کے ساتھ خان کے بجائے پٹھان کا لفظ اخبار والوں نے لگادیا ہے۔
عرفان کی والدہ شمیم بانو برقعہ میں ملبوس تھیں اور چہرے پر نقاب تھا۔ پرنم آنکھوں کے ساتھ انہوں نے اپنے بیٹے کی کامیابی پر خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ عرفان کی کرکٹ مصروفیات نے اسے گھر اور گھر والوں سے دور کردیا ہے لیکن وہ اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ عرفان نے بچپن میں آپ کو تنگ تو نہیں کیا؟ وہ بولیں: ’وہ بچہ ہی کیا جو بچپن میں شرارت نہ کرے۔‘ عرفان پٹھان کے والدین پاکستان آکر بہت خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں کے لوگ بڑے مہمان نواز ہیں انہوں نے جو پذیرائی کی ہے وہ اسے کبھی نہیں بھول سکتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||