پاکستان کو تیزی سے رنز بنانے ہونگے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان نے بھارت اور پاکستان کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے دن کے میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے امید ظاہرکی ہے کہ پاکستان بھارت پر تقریباً دو ڈھائی سو رنز کی سبقت حاصل کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے اتنی برتری حاصل کرلی تو اس سے بھارت کی بیٹنگ پر دگنا دباؤ پڑے گا یعنی ایک پاکستانی گیندبازی کا اور دوسرا ڈھائی سو رنز کی لیڈ کا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اب اس پچ پر جو اب دھیمی پڑتی جا رہی ہے اور اس میں نمی بھی ختم ہوتی جارہی ہے، پہلے کے مقابلے دوسری مرتبہ آؤٹ کرنا ذیادہ مشکل ہوگا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ بعض مبصرین کے خیال میں اس میں وقت زیادہ لگے گا اور پاکستانی ٹیم نے آہستہ رنز بنائے ہیں، عمران خان نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کیونکہ ملتان میں بھارت کی جیت کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے بڑی تیزی سے رنز بنائے تھے۔ عمران نے کہا کہ پاکستان کو بھی رنز تیزی بسے بنانے ہونگے اور اپنے آپ کو بڑا وقت دینا پڑے گا ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ جوڑی جمی رہی تو کوئی مشکل نہیں ہے لیکن اگر وکٹیں گرنی شروع ہو گئیں تو مسئلہ ہوگا۔ امپائرنگ کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ غلطیاں انسان سے ہی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے وقت میں ہوم امپائر غلطیاں کرتے تھے لیکن اب غیرجانبدار امپائر ہوتے ہیں اور سب کو علم ہے کہ اگر ان سے غلطی ہوتی ہے تو وہ جائز ہوتی ہے ۔ عمران کا کہنا تھا کہ اس کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے ٹیکنالوجی کا استعمال۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||